مسٹر گاندھی نے کہا کہ ووٹر لسٹ سے خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر) کے نام پر کروڑوں لوگوں کے نام کاٹے جا رہے ہیں اور اگر اسے نہیں روکا گیا تو مستقبل میں مزید لوگوں کے نام ہٹا دیے جائیں گے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بنیادی طور پر ان لوگوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، جن میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) حکومت کے خلاف ناراضگی ہے۔
مسٹر گاندھی نے الیکشن کمیشن کی غیر جانب داری پر سوال اٹھاتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر بی جے پی کے ساتھ ملی بھگت اور ووٹ چوری میں ملوث ہونے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ ایسی ووٹر لسٹ تیار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جس میں بی جے پی کی اکثریت یقینی ہو اور مستقبل میں اسی فہرست کی بنیاد پر سرکاری اسکیموں کے فوائد بھی طے کیے جائیں۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ آج پنچایتی راج کی اسکیموں کے فوائد کو ووٹر شناختی کارڈ سے جوڑنے کی بات ہو رہی ہے، کل راشن، پنشن، منریگا، رہائش، وظائف اور ریزرویشن جیسی سہولتوں پر بھی اس کا اثر پڑ سکتا ہے۔
کانگریس رہنما نے کہا کہ ووٹ دینا شہریوں کا آئینی حق ہے، کوئی شرط نہیں۔ کسی غریب کی پنشن اس کے ووٹر کارڈ کی محتاج نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ یہ صرف ووٹ چوری نہیں، بلکہ لوگوں کے حقوق کی چوری ہے۔
انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ یہ انتخابات جیتنے کی سیاست نہیں، بلکہ انتخابات میں دھاندلی کرکے اقتدار میں برقرار رہنے کا مستقل انتظام ہے۔ کانگریس اس طرح کی کوششوں کو کامیاب نہیں ہونے دے گی۔
