مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ صدر ولادیمیر پیوٹن نے کریملن میں ایرانی قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی سے ملاقات کی ہے۔ انہوں نے ملاقات کی تصدیق تو کی، تاہم اس کے ایجنڈے، دورانیے اور اس دوران ہونے والی بات چیت کے بارے میں کوئی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب مشرق وسطیٰ کی صورتِ حال میں مسلسل تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں اور خطے میں جاری سیاسی و سفارتی سرگرمیوں پر عالمی طاقتوں کی گہری نظر ہے۔ روس اور ایران کے درمیان علاقائی اور بین الاقوامی امور پر مسلسل رابطے بھی برقرار ہیں۔
واضح رہے کہ چند روز قبل روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور ایرانی قیادت کے درمیان ٹیلیفون پر بھی بات چیت ہوئی تھی۔ اس گفتگو میں علاقائی اور بین الاقوامی صورتِ حال، بالخصوص مشرق وسطیٰ میں ہونے والی تازہ پیش رفت پر تبادلۂ خیال کیا گیا تھا۔ دونوں ممالک نے خطے کے حالات اور ان کے ممکنہ اثرات کے حوالے سے اپنے مؤقف کا جائزہ لیا تھا۔
دوسری جانب روسی وزارتِ خارجہ نے بھی واضح کیا ہے کہ ماسکو ایران سے متعلق ہونے والی پیش رفت کا قریب سے جائزہ لے رہا ہے۔ روسی وزارتِ خارجہ کے اس بیان کو بھی دونوں ممالک کے درمیان جاری سفارتی رابطوں کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
تجزیہ نگاروں کے مطابق، پیوٹن اور ایرانی قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری کی ملاقات کو روس اور ایران کے درمیان اعلیٰ سطحی رابطوں کے تسلسل کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے، تاہم ملاقات کے ایجنڈے اور اس کے ممکنہ نتائج کے بارے میں سرکاری سطح پر مزید تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں۔
