Masarrat
Masarrat Urdu

سیمانچل کے تعلیمی، سماجی، معاشی ترقی اور بے روزگاری کے مسائل کو حل کرنے کیلُئے ہمیں متحدہ طور پر کوشش کرنی ہوگی: منوج وشواش

Thumb

نئی دہلی، 4 نومبر (مسرت ڈاٹ کام) سیمانچل کے گوناگوں مسائل پر روشنی ڈالتے ہوئے کانگریس کے سینئر لیڈر اور فاربس گنج کے رکن اسمبلی منوج وشواش نے کہا کہ سیمانچل کے تعلیمی، سماجی، معاشی ترقی اور بے روزگاری کے مسائل کو حل کرنے کیلُئے ہمیں متحدہ طور پر کوشش کرنی ہوگی۔ یہ بات انہوں نے یہاں سیمانچل سرکل آف دہلی (ایس سی ڈی) کی طرف سے اپنے اعزاز میں منعقدہ ایک استقبالیہ پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

انہوں نے کہا کہ سیمانچل میں سب سے بڑا مسئلہ تعلیم کا ہے اور خاص طور پر اقلیتی علاقے میں اسکولوں کی حالت بہت خراب ہے جسے انہوں نے بہت حد تک بہتر کرنے کی کوشش کی ہے لیکن بہت کچھ کیا جانا باقی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم کے بغیر کوئی قوم ترقی نہیں کرسکتی اس لئے سب سے زیادہ تعلیم پر ہی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیمانچل کا دوسرا سب سے بڑا مسئلہ بے روزگاری کا جسے حکومت کی کوششوں سے ہی حل کیا جاسکتا ہے لیکن وہ لوگ جو بہار سے باہر اپنا کاروبار کر رہے ہیں انہیں سیمانچل پر توجہ دینی چاہئے اور وہاں اپنی فیکٹری قائم کرنی چاہئے۔

مسٹر منوج وشواش نے کہا کہ سیمانچل سیلاب اور نشے کے بڑھتے واقعات سے بھی دوچار ہے اور اس سے نوجوانوں کا مستقبل برباد کیا جارہا ہے اور وہ تعلیم اور روزگار حاصل کرنے کے بجائے نشے میں گرفتار ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نشہ کے خلاف زبردست مہم چلانے کی ضرورت ہے۔اگر اس وقت اس کے خلاف سب لوگ میدان میں سامنے نہیں آئے تو مستقبل کے نونہالوں کو زبردست نقصان پہنچے گا۔انہوں نے حکومت کے دہرے رویے پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہاکہ سیمانچل کے مدرسے اس وقت حکومت کے نشانے پر ہیں اور بلاوجہ انہیں پریشان کیا جارہا ہے۔انتظامیہ کا دہرا سلوک بند ہونا چاہئے۔

سہیوگ اربن تھرفٹ اینڈ کریڈٹ کوآپریٹو سوسائٹی لمٹیڈ کے چیرمین ایم شمس الضحی نے کہا کہ سیمانچل کی ترقی کے بغیر نہ بہار اور نہ ہی ملک ہندوستان ترقی کرسکتا ہے حالانکہ یہ خطہ کئی چیزوں مثلاً مکھانا، انناس اور مکاکے لئے مشہور ہے۔ وہاں پروسیسنگ یونٹ قائم کرکے علاقے کو بے روزگاری سے نجات دلایا جاسکتا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے اعلان کیا کہ وہ اپنی طرف سے سیمانچل کے لوگوں کے لئے ٹھکانہ بنانے کے لئے پچیس ہزار روپے دیں گے۔

سیمانچل سرکل آف دہلی کے صدر اور یو این آئی کے معروف صحافی عابد انور نے کہاکہ سیمانچل سب سے زیادہ نظرانداز کئے جانے والا علاقہ ہے۔ جب کہ سرحدی علاقے ہونے کی وجہ سے سب سے زیادہ ترقی ہونی چاہئے تھی لیکن حکومت نے اسے حاشیائی خطہ کے سبب تعلیمی، سماجی، سیاسی اور معاشی ترقی سے دور رکھا۔ انہوں نے وہاں ہر سال آنے والے سیلاب، بے روزگاری، صحت اور تعلیم مسئلے پر بھی روشنی ڈالی۔انہوں پانی کے بہاو کو روکے جانے کا مسئلہ اٹھایا

۔ قرآن اکیڈمی کے چیرمین مولانا اکرام الحق قاسمی نے سیمانچل کے مدارس کے مسائل سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اہل مدارس کو بلاوجہ پریشان کر رہی ہے اور ان سے غیر ضروری دستاویزات طلب کئے جارہے ہیں۔ اس کا تدارک کیا جانا چاہئے۔ انہوں نے وہاں کے خستہ حال اسکول کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم کا نظام تباہ ہوچکا ہے اور اسکولوں میں لازمی ضروریات کا فقدان ہے۔

مولانا نثار احمد ندوی نے بھی علاقے کے گوناگوں مسائل سے آگاہ کیا اور اس کے حل کی اپیل کی اور کہاکہ آپ کا استقبال کرکے ہمیں خوشی ہورہی ہے اور آپ وہاں کے مسائل حل کرنے میں مستعدی سے کام کریں گے۔ڈاکٹر شمیم احمد ندوی سیمانچل سرکل آف دہلی کا تعارف کرایا اور اس کے خدمات کا خاکہ پیش کیا۔ نظامت کے فرائض انجام دیتے ہوئے ایس سی ڈی کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر مہربان فلاحی نے مہمانوں کا استقبال کیا اور امید ظاہر کی کہ ہمارے ایم ایل اے منوج وشواش علاقے کی ترقی کے سفیر بنیں گے اور ان سے علاقوں کو بہت سی امیدیں وابستہ ہیں۔تلاوت عزیزم حماد نے کی۔جب کہ شرکا میں جہانگیر فلاحی، ریاض مکھیا،دانش محسن، امجد ندوی، ظفر کمال،عمران اور دیگر معزز افراد شامل تھے۔

Ads