Masarrat
Masarrat Urdu

امریکہ کے پاس وقت ہے، امن معاہدے کے لیے جلدبازی نہیں: ٹرمپ

  • 31 Oct 2026
  • مسرت ڈیسک
  • دنیا
Thumb

واشنگٹن، 31 اکتوبر (مسرت ڈاٹ کام) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ واشنگٹن ایران کے ساتھ جنگ ختم کرنے کی کوئی جلدی میں نہیں ہے۔ انہوں نے اس تنازع کو ’’روایتی جنگ نہیں‘‘ قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ کئی ماہ سے جاری فوجی کارروائیوں اور پائیدار امن کے لیے مسلسل سفارتی کوششوں کے باوجود وقت امریکہ کے ساتھ ہے۔

ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ تہران مذاکرات میں اب بھی دلچسپی رکھتا ہے، لیکن اسے شدید مالی مشکلات کا سامنا ہے اور وہ فوجی اہلکاروں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ملازمین کو تنخواہیں ادا کرنے سے بھی قاصر ہے۔

اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا، ’’مذاکرات ہو رہے ہیں۔ وہ بات کرنا چاہتے ہیں۔ وہ مسلسل بات چیت کر رہے ہیں۔‘‘

انہوں نے مزید کہا، ’’لیکن دیکھیے، وہ اپنے فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کو تنخواہیں نہیں دے رہے ہیں۔ وہ بڑی مشکل میں ہیں۔ اور سچ کہوں تو ہمارے پاس وقت ہے۔ یہ جنگ ہے، لیکن روایتی جنگ نہیں۔ اسے شروع ہوئے سات ماہ ہو چکے ہیں۔‘‘

امریکی صدر نے فوجی مہم کے مالی اخراجات کی اہمیت بھی کم ظاہر کرنے کی کوشش کی اور دعویٰ کیا کہ اس تنازع پر واشنگٹن نسبتاً بہت کم رقم خرچ کر رہا ہے۔

ٹرمپ نے کہا، ’’نسبتاً دیکھا جائے تو ہم بہت کم پیسہ خرچ کر رہے ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ وینزویلا سے متعلق پیش رفت کے ذریعے امریکہ اپنے اخراجات سے کئی گنا زیادہ رقم حاصل کر چکا ہے۔

ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وہ متعدد بار ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے یا ان میں شدت لانے کی دھمکی دے چکے ہیں۔ انہوں نے اس سے قبل امریکی انتخابات کے بعد ایران کے خلاف ’’ایک اور چھوٹی ایپک فیوری‘‘ کارروائی شروع کرنے کا امکان بھی ظاہر کیا تھا۔ ایپک فیوری سے مراد تہران کے خلاف امریکہ کی ابتدائی فوجی مہم ہے۔ تاہم، انہوں نے ایک ’’بڑے اور اچھے‘‘ معاہدے کی امید بھی ظاہر کی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان کئی اہم معاملات پر اختلافات برقرار ہیں، جن میں ایران کا جوہری پروگرام، پابندیوں میں نرمی اور ایرانی بندرگاہوں کی امریکی ناکہ بندی شامل ہیں۔

دریں اثنا، جمعہ کو امریکہ میں جی 20 وزرائے خارجہ کے اجلاس کے موقع پر ترکی کے وزیر خارجہ حاقان فیدان اور امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کی ملاقات کے بعد سفارتی سرگرمیوں میں تیزی دیکھی گئی۔ ملاقات میں واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات، خطے کی مجموعی صورت حال اور دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

یہ ملاقات رواں ہفتے کے اوائل میں ترک صدر رجب طیب اردوان اور ٹرمپ کے درمیان ٹیلی فون پر ہونے والی گفتگو کے بعد ہوئی۔ اس دوران انقرہ نے بحری سلامتی سے متعلق اپنے خدشات ظاہر کیے تھے اور علاقائی کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں کی حمایت کا اظہار کیا تھا۔

ایران کے ساتھ جنگ کا آغاز 28 فروری کو ایران کے فوجی ٹھکانوں، میزائل مراکز اور جوہری تنصیبات پر امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں کے بعد ہوا تھا۔ ابتدائی بمباری میں ایران کے اس وقت کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای ہلاک ہو گئے تھے، جس کے بعد ایران نے اسرائیل اور خطے میں امریکی تنصیبات پر جوابی میزائل حملے کیے۔

بعد ازاں ایران نے آبنائے ہرمز سے بحری آمد و رفت محدود کر دی، جس سے عالمی سطح پر تیل کی فراہمی اور توانائی کے تحفظ کے حوالے سے تشویش پیدا ہو گئی۔

 

Ads