Masarrat
Masarrat Urdu

ایران سہ فریقی دفاعی معاہدے میں شامل ہو سکتا ہے، پاکستانی فوجی ترجمان

Thumb

اسلام آباد، 31 اکتوبر (مسرت ڈاٹ کام) پاکستانی فوج کے ترجمان احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان طے پانے والے دفاعی معاہدے میں نئے ارکان کی شمولیت پر کوئی پابندی نہیں ہے اور ایران بھی ضروری شرائط پوری کرنے کی صورت میں اس معاہدے کا حصہ بن سکتا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، پاکستانی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے رواں ہفتے ایک اعلیٰ سطحی پاکستانی وفد کے دورۂ تہران کے بعد اپنے پہلے انٹرویو میں کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کی کوششوں کے حوالے سے پاکستانی فوج کو محتاط امید ہے۔

پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر، جو ایران کے ساتھ آٹھ ماہ سے جاری جنگ میں کشیدگی کم کرنے کے لیے اسلام آباد کی سفارتی کوششوں میں مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں، رواں ماہ دو مرتبہ تہران کا دورہ کر چکے ہیں۔ ان کا تازہ ترین دورہ پیر کے روز سعودی عرب اور ترکی کے حکام کے ہمراہ تھا۔

احمد شریف چوہدری نے ان دوروں کے مثبت نتائج سے متعلق سوال کے جواب میں کہا کہ اگر حالات میں بہتری کے آثار نہ ہوتے تو فیلڈ مارشل عاصم منیر دو مرتبہ تہران کیوں جاتے؟ لہٰذا یقیناً یہ مثبت پیش رفت ہے۔

پاکستانی مسلح افواج کے شعبۂ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل نے مزید کہا کہ ہم ہمیشہ جس اصطلاح کا استعمال کرتے ہیں، وہ محتاط امید ہے۔

پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان دفاعی معاہدے میں ایران کی ممکنہ شمولیت کے بارے میں سوال پر انہوں نے کہا کہ اس معاہدے کی شرائط نئے ارکان کی شمولیت میں کوئی رکاوٹ پیدا نہیں کرتیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جو بھی ملک اجتماعی دفاع اور علاقائی امن کے حوالے سے مشترکہ سوچ رکھتا ہو، اسے اس معاہدے میں شامل ہونے سے کیوں روکا جائے؟ ایسے تمام ممالک کا خیرمقدم کیا جائے گا۔

چوہدری نے واضح کیا کہ اس حوالے سے حتمی فیصلہ معاہدے میں شامل تینوں بنیادی ممالک کی سیاسی قیادت کرے گی۔

پاکستانی فوج کے ترجمان نے سعودی عرب میں مزید پاکستانی فوجی دستے تعینات کیے جانے کے امکان سے متعلق سوال کے جواب میں کہا کہ پاکستان، سعودی عرب اور مکہ و مدینہ کے مقدس مقامات کے دفاع کے لیے پرعزم ہے۔ تاہم، انہوں نے کہا کہ پاکستان یمن کے تنازع کا فریق نہیں ہے کیونکہ یہ اس ملک کا داخلی تنازع ہے۔

احمد شریف چوہدری نے مزید کہا کہ اب بھی بعض طاقتور عناصر اور مخالف قوتیں موجود ہیں جو یہ سمجھتی ہیں کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ جاری رہنا ان کے مفاد میں ہے، تاہم انہوں نے ان عناصر کی شناخت ظاہر نہیں کی۔

Ads