Masarrat
Masarrat Urdu

چیف الیکشن کمشنر کے خلاف اپوزیشن جماعتوں کی ماک پارلیمنٹ میں ’عوامی مواخذے‘ کی تجویز پیش

Thumb

نئی دہلی، 31 اکتوبر (مسرت ڈاٹ کام) اپوزیشن کے انڈیا اتحاد کی جانب سے راجدھانی میں ہفتہ کو منعقدہ ماک پارلیمنٹ میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف کانگریس صدر ملکارجن کھرگے کی طرف سے پیش کی گئی چھ نکاتی ’عوامی مواخذے‘ کی تجویز کے اہم نکات درج ذیل ہیں:

چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے انتخابات میں ووٹ چوری کرنے کی مجرمانہ سازش میں خود بھی شامل رہے ہیں۔ انہوں نے بی جے پی کو ووٹر فہرستوں میں من مانی ردوبدل کرنے کی چھوٹ دی، جو ایک مجرمانہ فعل اور ملک و ہندوستانی آئین کے خلاف غداری کے مترادف ہے۔

مسٹر کمار ووٹر فہرستوں کی خصوصی تفصیلی نظرثانی (ایس آئی آر) کے براہ راست ذمہ دار ہیں، جس کے نتیجے میں ووٹر فہرستوں میں تباہ کن پیمانے پر ردوبدل اور ناموں کی کٹوتی ہوئی ہے۔ انہوں نے دانستہ طور پر 13.2 کروڑ ووٹروں کے نام ووٹر فہرستوں سے حذف کروائے اور انہیں ووٹ دینے کے بنیادی حق سے محروم کیا۔

چیف الیکشن کمشنر نے فارم 6 میں غیر مجاز طریقے سے غیر قانونی ترمیم کی۔ یہ ملک اور ہندوستنانی آئین کے خلاف غداری کا فعل ہے۔

مسٹر کمار ووٹروں کے نام حذف کرنے اور ووٹر رجسٹریشن افسران (ای آر او) کو اہل ووٹروں کے نام شامل کرنے سے روکنے کے لیے ای آر او نیٹ/ای سی آئی نیٹ سافٹ ویئر کے غلط استعمال کے مرتکب ہیں۔

چیف الیکشن کمشنر نے اپنے ساتھی الیکشن کمشنروں کو دانستہ اور غیر قانونی طور پر فیصلہ سازی کے عمل سے الگ رکھا۔ یہ ہندوستانی آئین میں متعین الیکشن کمیشن کی آئینی ذمہ داریوں کی صریح خلاف ورزی اور ملک و ہندوستانی آئین کے خلاف غداری کا فعل ہے۔

مسٹر کمار نے آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کو یقینی بنانے اور ہندوستانی آئین کے تحفظ کی اپنی آئینی ذمہ داری کی خلاف ورزی کی ہے۔ انہوں نے بار بار اپوزیشن کو نشانہ بنایا، اس کی بات سننے سے انکار کیا اور اپوزیشن رہنماؤں کو اپنا موقف پیش کرنے سے روکنے کے لیے کمیشن کے دروازے بند کردیے۔ وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ کے اشارے پر کھلے عام اپنی آئینی ذمہ داری کے خلاف کام کرکے انہوں نے عوام کے اعتماد اور بھروسے کو ٹھیس پہنچائی ہے۔ انہوں نے انتخابی نتائج میں ہیر پھیر کرنے اور انہیں غلط انداز میں پیش کرنے کی مجرمانہ سازش میں بھی حصہ لیا ہے۔

’عوامی مواخذے‘ کی تجویز میں ان الزامات کو ’حقائق‘ قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ان سے واضح ہوتا ہے کہ دسمبر 2023 میں مودی حکومت کی جانب سے چیف الیکشن کمشنر کو فراہم کردہ قانونی تحفظ کا مقصد ملک اور آئین کے خلاف ان کے مبینہ مجرمانہ اقدامات کو تحفظ دینا تھا۔

تجویز میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ اس قانونی تحفظ کو فوری طور پر ختم کیا جائے اور مسٹر کمار کے خلاف آئین کے تحت متعین قانونی طریقہ کار کے مطابق عدالت میں ملک سے غداری کا مقدمہ چلایا جائے۔

 

Ads