سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے پیغام میں مسٹر مودی نے کہا کہ اس مشن کی کامیابی ہندوستان کے خلائی سائنس دانوں کی لگن اور تکنیکی صلاحیتوں کا مظہر ہے۔ انہوں نے کہا، ’’این وی ایس-03 کو لے جانے والے جی ایس ایل وی-ایف18 کی کامیاب لانچنگ پر اسرو کے ہمارے سائنس دانوں اور انجینئروں کو مبارک باد۔‘‘
وزیر اعظم نے کہا، ’’یہ مشن ہمارے مقامی سیٹلائٹ نیویگیشن نظام ناوِک کو مضبوط بنانے کی سمت ایک اہم قدم ہے۔ جدید صلاحیتوں سے لیس این وی ایس-03 اہم ٹیکنالوجی کے شعبوں میں خود انحصاری کی ہماری کوششوں کو آگے بڑھائے گا اور ایسی نیویگیشن خدمات کی فراہمی میں مدد کرے گا جن سے ہمارے عوام کو فائدہ پہنچے گا۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستان کے خلائی سائنس دانوں کی لگن اور جدت طرازی مسلسل ملک کا سر فخر سے بلند کر رہی ہے۔
یہ لانچنگ جمعہ کی رات 11 بج کر 51 منٹ پر آندھرا پردیش کے سری ہری کوٹہ میں واقع ستیش دھون خلائی مرکز کے دوسرے لانچ پیڈ سے کی گئی۔ جیو سنکرونس سیٹلائٹ لانچ وہیکل (جی ایس ایل وی-ایف18) نے 2,232 کلوگرام وزنی سیٹلائٹ این وی ایس-03 کو کامیابی کے ساتھ اس کے مقررہ جیو سنکرونس ٹرانسفر آربٹ (جی ٹی او) میں پہنچا دیا۔ اس کے ساتھ ہی ہندوستان کے خلائی پروگرام نے ایک اور اہم کامیابی حاصل کی۔
یہ مشن جی ایس ایل وی کی 20ویں پرواز اور 2026 میں اسرو کی تیسری خلائی لانچنگ تھی۔ تقریباً 50 میٹر بلند تین مرحلوں والے اس لانچ وہیکل نے تقریباً 18 منٹ میں اپنا مشن مکمل کرتے ہوئے نیویگیشن سیٹلائٹ کو مقررہ مدار میں پہنچا دیا۔
این وی ایس-03 اسرو کے اگلی نسل کے نیویگیشن سیٹلائٹ سلسلے کا تیسرا سیٹلائٹ ہے۔ اسے ہندوستانی علاقائی سیٹلائٹ نیویگیشن نظام (آئی آر این ایس ایس) کی خدمات کو جاری رکھنے، ان کی درستگی بڑھانے اور اعتبار کو بہتر بنانے کے مقصد سے تیار کیا گیا ہے۔ یہ نظام عام طور پر ناوِک یعنی نیویگیشن ود انڈین کانسٹیلیشن کے نام سے مشہور ہے۔
