Masarrat
Masarrat Urdu

شہری آزادیوں کی بحالی ضروری، تشدد میں کمی کو پائیدار امن اور انصاف میں تبدیل کیا جائے: میرواعظ

Thumb

سرینگر، 30 اکتوبر (مسرت ڈاٹ کام) حریت کانفرنس کے چیئرمین اور کشمیر کے ممتاز مذہبی رہنما میرواعظ عمر فاروق نے شہری آزادیوں کی بحالی پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیر میں تشدد کے واقعات میں کمی خوش آئند ہے، لیکن پائیدار امن کے قیام کے لیے انصاف، مفاہمت اور عوام کا اعتماد بحال کرنا ضروری ہے۔

جمعہ کو سرینگر کی تاریخی جامع مسجد میں نماز جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے میرواعظ نے جموں و کشمیر سے متعلق انٹرنیشنل کرائسس گروپ کی حال ہی میں جاری کردہ رپورٹ کا حوالہ دیا اور کہا کہ اس کے نتائج پر سنجیدگی سے غور کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ تشدد میں کمی کا مطلب یہ نہیں کہ بنیادی سیاسی شکایات دور ہوگئی ہیں یا عوام کا اعتماد بحال ہوگیا ہے۔

میرواعظ نے کہا کہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران انتہاپسندی، سڑکوں پر احتجاج اور تشدد کے واقعات میں کمی آئی ہے، جو یقیناً قابل خیرمقدم ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کے عوام سے زیادہ امن کی اہمیت کو کوئی نہیں سمجھ سکتا، کیونکہ وہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بے پناہ مصائب برداشت کرتے آرہے ہیں۔

تاہم انہوں نے کہا کہ رپورٹ میں ایک اہم نکتے کی نشاندہی کی گئی ہے کہ تشدد میں کمی سے بنیادی سیاسی مسائل حل نہیں ہوجاتے اور نہ ہی اس سے عوام کا اعتماد خودبخود بحال ہوتا ہے۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ لوگوں کی جان و مال کا تحفظ کرے اور سلامتی کے انتظامات ضروری ہیں، لیکن صرف حفاظتی اقدامات ایسے مسئلے کا مستقل حل فراہم نہیں کرسکتے جس کے سیاسی اور انسانی پہلو بھی گہرے ہوں۔

میرواعظ نے کہا کہ کشمیر اب بھی دنیا کے سب سے زیادہ فوجی موجودگی والے علاقوں میں شامل ہے۔

انہوں نے رپورٹ کے انکشافات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 2019 کے بعد گرفتاریوں اور حراست میں لیے جانے والے افراد کی تعداد تشویش ناک ہے۔ مرکزی وزارت داخلہ کے اعداد و شمار کے مطابق 2019 سے 2023 کے درمیان جموں و کشمیر میں غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون (یو اے پی اے) کے تحت 3,662 افراد کو گرفتار کیا گیا، جبکہ اس مدت میں صرف 23 افراد کو سزا سنائی گئی۔

انہوں نے کہا کہ یہ اعداد و شمار طویل مدت تک حراست میں رکھنے، قانونی کارروائی کے تقاضوں اور سخت قوانین کے وسیع پیمانے پر استعمال کے حوالے سے کئی سنجیدہ سوالات پیدا کرتے ہیں۔ ہزاروں خاندان اب بھی اپنے عزیزوں کے مستقبل کے بارے میں غیر یقینی صورت حال سے دوچار ہیں۔

میرواعظ نے کہا کہ کشمیری سیاسی قیدیوں کی مسلسل اسیری بھی تشویش کا باعث ہے۔ ان میں یاسین ملک، شبیر احمد شاہ، شاہد الاسلام، انجینئر رشید، آسیہ اندرابی، مسرت عالم اور دیگر کئی افراد شامل ہیں، جو برسوں سے جیلوں میں بند ہیں۔ ان میں سے کئی قیدیوں کو اپنے گھروں اور اہل خانہ سے دور جیلوں میں رکھا گیا ہے۔

انہوں نے ایک مرتبہ پھر ان قیدیوں کی رہائی، ان کے مقدمات پر نظرثانی اور عمر رسیدہ و بیمار قیدیوں کے ساتھ انسانی بنیادوں پر ہمدردانہ رویہ اختیار کرنے کی اپیل کی۔ ان کا کہنا تھا کہ امن کی کوششوں میں انصاف اور ہمدردی کو الگ نہیں کیا جاسکتا۔

حریت چیئرمین نے سیاسی اور شہری سرگرمیوں پر پابندیوں، پُرامن اظہار رائے کے مواقع محدود ہونے، آزادانہ صحافت پر قدغنوں اور عوام میں بڑھتی ہوئی بیگانگی پر بھی تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ ان مسائل کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔

میرواعظ نے سوال کیا کہ اگر صورت حال میں بہتری آئی ہے، جیسا کہ تسلیم کیا جارہا ہے، تو کیا یہ پابندیاں نرم کرنے، زیر حراست افراد کے معاملات پر نظرثانی، شہری آزادیوں کی بحالی اور ایسا ماحول پیدا کرنے کا مناسب موقع نہیں ہے جہاں لوگ اپنے خیالات اور شکایات کا پُرامن انداز میں اظہار کرسکیں؟

انہوں نے کہا کہ امن کا اندازہ صرف احتجاجی مظاہروں کی عدم موجودگی سے نہیں لگایا جاسکتا۔

رپورٹ کی سفارشات کا حوالہ دیتے ہوئے میرواعظ نے کہا کہ ریاستی درجہ کی بحالی، منتخب حکومت کو بامعنی اختیارات کی فراہمی، سخت انسداد دہشت گردی قوانین پر نظرثانی اور ہندوستان و پاکستان کے درمیان نئے سرے سے مذاکرات جیسے اقدامات پر سنجیدگی سے غور کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ان کا ہمیشہ سے یہ موقف رہا ہے کہ مسئلہ کشمیر کو صرف سلامتی کے نقطہ نظر سے حل نہیں کیا جاسکتا۔ سیاسی مسائل کے حل کے لیے سیاسی مذاکرات اور دیرینہ شکایات کے ازالے کے لیے مخلصانہ مفاہمتی کوششیں ضروری ہیں۔

میرواعظ نے کہا کہ حکومتوں کو اپنے سلامتی سے متعلق خدشات اور ذمہ داریوں کا حق حاصل ہے، لیکن عوام کے خدشات اور خواہشات بھی اتنی ہی اہمیت رکھتے ہیں اور انہیں امن کے کسی بھی بامعنی عمل میں جگہ ملنی چاہیے۔

گزشتہ سال کے واقعات اور ہندوستان و پاکستان کے درمیان کشیدگی کے خطرات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مذاکرات ہی آگے بڑھنے کا سب سے ذمہ دارانہ راستہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وہ یہ مسائل کسی محاذ آرائی کے جذبے کے تحت نہیں بلکہ اپنے عوام کے مستقبل کے بارے میں حقیقی تشویش کے پیش نظر اٹھا رہے ہیں۔

میرواعظ نے کہا کہ سلامتی کی صورت حال میں بہتری کے بعد اگلا قدم مفاہمت، شہری آزادیوں کی بحالی، سیاسی قیدیوں کے مقدمات پر نظرثانی اور سنجیدہ سیاسی مذاکرات ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ امن کا حقیقی پیمانہ صرف یہ نہیں کہ تشدد میں کتنی کمی آئی ہے، بلکہ یہ بھی ہے کہ عوام کا اعتماد کس حد تک بحال ہوا ہے۔

Ads