اجلاس کی نظامت اے پی سی آر کے نیشنل سکریٹری ندیم خان نے کی۔ ممتاز سماجی کارکن یوگیندر یادو نے ایس آئی آر، حلقہ بندی اور ’ایک ملک، ایک انتخاب‘ جیسے اقدامات پر تنقید کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا کہ ان کے ذریعے انتخابی عمل کو حکمراں بی جے پی کے حق میں متاثر کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے اہل ووٹروں کے نام انتخابی فہرستوں سے حذف کیے جانے اور حلقہ بندی میں سیاسی جانبداری کے خطرات کی بھی نشاندہی کی۔
سابق مرکزی وزیر علی اشرف فاطمی نے کہا کہ حلقہ بندی کے عمل سے اہم ووٹر گروپوں کو تقسیم کیے جانے کا خدشہ ہے۔ طلبہ رہنما این سائی بالاجی نے بہار میں ووٹر فہرستوں کی تصدیق کے دوران مبینہ بے ضابطگیوں کا ذکر کرتے ہوئے انتخابی شفافیت کے تحفظ کے لیے منظم عوامی جدوجہد پر زور دیا۔
دہلی کے سابق لیفٹیننٹ گورنر نجیب جنگ نے کہا کہ جمہوری حقوق کے تحفظ کی جدوجہد میں تمام برادریوں اور سول سوسائٹی کو شامل ہونا چاہیے۔ سینئر وکیل پرشانت بھوشن نے نوجوانوں کی تحریک کو سراہتے ہوئے کہا کہ عوامی احتجاج کے ذریعے الیکشن کمیشن اور عدلیہ جیسے اداروں کی جواب دہی یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔
جے این یو ایس یو کی جوائنٹ سکریٹری دانش علی نے جے این یو، جامعہ ملیہ اسلامیہ اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی جیسے تعلیمی اداروں کے تحفظ اور ان کے حق میں قومی سطح پر حمایت کی اپیل کی۔ انڈین مسلمس فار سول رائٹس کے چیئرمین اور سابق رکن پارلیمنٹ محمد ادیب نے مسلمانوں اور دیگر ہم وطنوں کے درمیان مشترکہ حکمت عملی کی ضرورت پر زور دیا۔ مسلم پرسنل لا بورڈ کے سکریٹری جنرل مولانا فضل الرحیم مجددی، میجر جنرل (ریٹائرڈ) جاوید اقبال خان اور جماعت اسلامی ہند کے نیشنل سکریٹری برائے ملی امور محمد شفیع مدنی نے بھی حقِ رائے دہی سے متعلق عوامی بیداری کے لیے مساجد، مدارس اور مقامی اداروں کے نیٹ ورک کو متحرک کرنے کی تجویز پیش کی۔
اجلاس کے اختتام پر خالد سیف اللہ رحمانی، ڈاکٹر ایس کیو آر الیاس، گجرات کے سابق رکن اسمبلی غیاث الدین شیخ، پروفیسر اپوروانند اور دیگر نمائندوں نے نوجوانوں، مذہبی تنظیموں، سول سوسائٹی اور اساتذہ کی تنظیموں کے درمیان اتحاد پر زور دیا۔ مقررین نے عوام سے اپیل کی کہ حقِ رائے دہی اور جمہوری حقوق کے تحفظ کے لیے پُرامن اور منظم شہری جدوجہد کو آگے بڑھایا جائے۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ مانیٹرنگ کمیٹی کے مزید اجلاس جلد لکھنؤ، حیدرآباد، رانچی، بنگلور، احمدآباد اور جے پور میں منعقد کیے جائیں گے، جن میں سماجی اور انسانی حقوق کے کارکنان بھی شرکت کریں گے۔
