اتحاد کے رہنماؤں نے آج یہاں کہا کہ یکم نومبر کو رام لیلا میدان میں مجوزہ انڈیا اتحاد کی عظیم الشان ریلی میں جمہوریت، آئین اور حق رائے دہی کے تحفظ کے لیے اپوزیشن کا اتحاد اور عوام کا غصہ نظر آئے گا۔
کانگریس صدر اور راجیہ سبھا میں قائد حزب اختلاف ملکارجن کھرگے کی رہائش گاہ پر مسٹر گیانیش کمار کے خلاف عوامی مواخذے کا پروگرام شروع ہونے سے قبل لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی اور انڈیا اتحاد کے دیگر رہنماؤں نے آج یہاں صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے پروگرام ملتوی کیے جانے کی اطلاع دی۔ مسٹر گاندھی نے کہا کہ بارش کے باعث پروگرام کل اسی وقت منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، کیونکہ وہ نہیں چاہتے کہ سینئر رہنماؤں کو بارش میں بیٹھنے کی وجہ سے پریشانی ہو۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ یکم نومبر کو تمام اپوزیشن جماعتیں رام لیلا میدان تک مارچ کریں گی۔ اس میں سیاسی جماعتوں کے علاوہ دیگر تنظیموں اور عام لوگوں کا بھی خیرمقدم ہے۔ انہوں نے کہا کہ رام لیلا میدان میں لوگوں کی شرکت اور انہیں دہلی آنے سے روکنے کی کوششوں سے ملک کی صورت حال کا اندازہ ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ لاکھوں لوگوں کو حق رائے دہی سے محروم کیا جا رہا ہے اور اڈانی، امبانی، وزیر اعظم نریندر مودی، وزیر داخلہ امت شاہ اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے سربراہ موہن بھاگوت کو فائدہ پہنچانے کے لیے ان کے ووٹ چھینے جا رہے ہیں۔
کانگریس رہنما نے کہا کہ یہ الگ الگ احتجاجی مظاہرے نہیں، بلکہ ایک مشترکہ تحریک ہے۔ اپوزیشن آئین، ہندوستان کے تصور اور ہر ہندوستانی کے حق رائے دہی کے تحفظ کے لیے متحد ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ وزیر داخلہ لوگوں کو دہلی آنے سے روکنے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔
ترنمول کانگریس کے رہنما ڈیرک اوبرائن نے کہا کہ انڈیا اتحاد کے تمام رہنما اس لڑائی میں متحد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سول سوسائٹی، طلبہ، نوجوانوں، مزدوروں اور گھریلو خواتین سمیت تمام لوگوں کو اس تحریک میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی ہے۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ سب مل کر یہ لڑائی جیتیں گے۔
سماجوادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ دھرمیندر یادو نے کہا کہ عوام سمجھ چکے ہیں کہ بھارتیہ جنتا پارٹی جس جیت کا دعویٰ کرتی ہے، اس کے پیچھے انتخابی دھاندلی اور انتخابی انتظامات میں ہیرا پھیری ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں سے لے کر ووٹر فہرستوں تک میں گڑبڑ کی جا رہی ہے۔ مسٹر یادو نے کہا کہ اتر پردیش قانون ساز کونسل کے انتخابات کے نتائج کے ذریعے اساتذہ اور گریجویٹ ووٹروں نے واضح کر دیا ہے کہ ریاست میں بی جے پی کی اصل صورت حال کیا ہے۔
