جاری بیان کے مطابق ان خدشات کا اظہار گزشتہ روز فیکلٹی ڈینز، شعبہ جات کے سربراہان، مراکز کے ڈائریکٹرز اور یونیورسٹی کے کلیدی عہدیداران،جن میں امتحانات کنٹرولر، چیف پراکٹر، ہاسٹل پرووسٹس اور دیگر ذمہ داران شامل تھے کے ایک اجلاس میں کیا گیا۔ یہ اجلاس کیمپس کی صورت حال کا جائزہ لینے، آن لائن کلاسز کے دورانیے پر نظر ثانی کرنے اور احتجاج کرنے والے طلبہ کے مطالبات پر غور و خوض کرنے کے لیے طلب کیا گیا تھا۔
اساتذہ نے سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس مارکنڈے کاٹجو کی جانب سے فیس بک پر کی گئی ایک پوسٹ پر شدید صدمے اور سخت تنقید کا اظہار کیا ہے۔ جسٹس کاٹجو نے جامعہ ملیہ اسلامیہ کی مجاز اتھارٹی کی جانب سے چھبیس اکتوبر دوہزار چھبیس کو جاری کردہ اس حکم نامے پر تنقید کی تھی، جس میں بھوک ہڑتال کرنے والے طلبہ کی جانب سے پیش کردہ مطالبات کو تسلیم کیا گیا تھا۔ ان مطالبات کے تحت یہ طے پایا تھا کہ:(اول) طلبہ یونین کے آئین کی منظوری کے پندرہ دنوں کے بعد طلبہ یونین کے انتخابات منعقد ہوں گے، (دوم) احتجاج کے دوران طلبہ کے خلاف کی گئی معطلی اور جاری کردہ ’شو کاز نوٹس‘ کو منسوخ کیا جائے گا اور (سوم) احتجاج کے دوران سکوریٹی عملے کے رویے اور اقدامات کی تحقیقات کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔ جہاں ایک طرف جسٹس کاٹجو نے طلبہ کے یونین بنانے کے حق کی حمایت میں آئین کے آرٹیکل انیس(ایک) (سی) کا حوالہ دیا، وہیں دوسری طرف اساتذہ نے ان کے اس دعوے پر سوال اٹھایا کہ یونیورسٹی انتظامیہ، طلبہ کے جمہوری حقوق کی مخالف ہے۔ اساتذہ کے مطابق، یہ تأثرچھبیس اکتوبر دوہزار چھبیس کو جامعہ انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ مذکورہ بالا حکم نامے کی روح کے سراسر منافی ہے۔ اساتذہ نے نشان دہی کی کہ موجودہ انتظامیہ نے ’جامعہ ملیہ اسلامیہ اسٹوڈنٹس یونین‘ کی بحالی کی جانب ٹھوس اقدامات کیے ہیں۔
انھوں نے یاد دلایا کہ یہ یونین دوہزار چھ میں اس وقت تحلیل کر دی گئی تھی جب وہاں پرتشدد جھڑپوں اور اساتذہ (بشمول اس وقت کے شیخ الجامعہ) پر حملوں کے واقعات بار بار پیش آئے تھے۔ اساتذہ نے اس بات پر زور دیا کہ گزشتہ بیس برسوں میں یہ پہلی انتظامیہ ہے جس نے اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے عملی اور مؤثر اقدامات کیے ہیں، جو اتنے طویل عرصے سے التوا کا شکار تھا۔اساتذہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اکیس اکتوبر کو آئین کا مسودہ تیار کرنے والی ایک کمیٹی تشکیل دی گئی تھی اور اسے متعلقہ عدالتی احکامات، ’لنگدوہ کمیٹی رپورٹ‘ کی سفارشات، نیز یونیورسٹی کے نافذالعمل آرڈیننس اور قوانین کا جائزہ لینے کے لیے مناسب وقت دیا جانا چاہیے۔
اساتذہ نے یونیورسٹی کے اندرونی معاملے کو سیاسی جماعتوں کی جانب سے سیاسی رنگ دینے کی کوششوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ اساتذہ نے نشان دہی کی کہ کانگریس کے ارکانِ پارلیمنٹ، جناب عمران پرتاپ گڑھی اور جناب عمران مسعود کے غیر مجاز داخلے کے بعد، یونیورسٹی انتظامیہ پچیس اکتوبر کو ایف آئی آر درج کرانے پر مجبور ہوئی۔ اساتذہ کے مطابق جناب عمران پرتاپ گڑھی اکیس اکتوبر کو گیٹ نمبر چار۔اے کا تالا توڑ کر کیمپس میں داخل ہوئے، جب کہ جناب عمران مسعود تیئس اکتوبر کو غفور نگر کے قریب ایک سیڑھی کی مدد سے احاطے کی دیوار پھلانگ کر کیمپس میں داخل ہوئے۔ انھوں نے سماج وادی پارٹی کے رکنِ پارلیمنٹ محب اللہ ندوی کو کیمپس جاتے ہوئے حراست میں لیے جانے اور دیگر سیاسی رہنماؤں کی جانب سے انتظامیہ کو پیشگی اطلاع دیے بغیر کیمپس کے دوروں کا بھی ذکر کیا۔
اساتذہ نے اس بات پر شدید تشویش اور دکھ کا اظہار کیا کہ جاری احتجاج کے دوران’یونیورسٹی سے باہر کے‘ کچھ افراد نے چوبیس اکتوبر سے شعبہ سیاسیات اور شعبہ معاشیات کی عمارت پر قبضہ کر رکھا ہے اور اسے مقفل کر دیا ہے۔ انھوں نے مزید افسوس کے ساتھ بتایا کہ اس صورت حال کے باعث یونیورسٹی انتظامیہ کو چوبیس اکتوبر سے دیوالی کی چھٹیوں تک تدریسی عمل کو ’آن لائن‘ منتقل کرنے پر مجبور ہونا پڑا ہے، جس کا بعد میں دوبارہ جائزہ لیا جائے گا۔
یونیورسٹی کے ڈینز، سربراہانِ شعبہ جات، ڈائریکٹرز اور اعلیٰ سطحی کمیٹی کے اراکین نے کل ’سابق طلبہ‘ (المنائی) جامعہ کے بانی خاندانوں کے افراد، فن کاروں، صحافیوں، وکلا اور دیگر فکرمند شہریوں‘ کے اس گروپ کی جانب سے بلائی گئی مشترکہ پریس کانفرنس کے وقت اور اس کے مقاصد پر بھی سوال اٹھایا، جس کا مقصد احتجاج کرنے والے طلبہ کی حمایت کرنا تھا۔
اساتذہ نے بیرونی عناصر کی جانب سے یونیورسٹی کے اندرونی معاملے کو ایک بڑی سیاسی کشمکش میں تبدیل کرنے کی مسلسل کوششوں پر مایوسی کا اظہار کیا۔ انھوں نے نشاندہی کی کہ یونیورسٹی انتظامیہ نے احتجاج کرنے والے طلبہ کے ساتھ بات چیت کرنے اور ان کے مطالبات جو گزشتہ دو دہائیوں سے حل طلب تھے، پورے کرنے کے لیے ’مثالی کوششیں‘ کی تھیں۔
اس بات کا اعادہ کرتے ہوئے کہ یونیورسٹی کے اصلی طلبہ اور ملازمین ہی اس کے بنیادی اور جائز متعلقین ہیں، اساتذہ نے بیرونی افراد سے اپیل کی کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جن سے کیمپس کا ماحول خراب ہو یا تعلیمی سرگرمیوں میں خلل پڑے۔ انھوں نے واضح کیا کہ یونیورسٹی کو غیر مستحکم کرنے یا اس کے تعلیمی امور کی انجام دہی میں مداخلت کی کسی بھی کوشش کو ہرگز برداشت نہیں کیا جانا چاہیے۔
