مسٹر کھرگے نے منگل کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ ’ووٹ چوری‘ کے نئے انکشافات میں اتر پردیش کے پیلی بھیت میں فارم 8 کے ذریعے کی گئی 10,470 بے ضابطہ تبدیلیوں کے معاملات شامل ہیں، جن میں ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ مہاراشٹر میں خصوصی تفصیلی نظرثانی (ایس آئی آر) کی مسودہ ووٹر فہرستوں سے 2.07 کروڑ نام حذف کیے گئے ہیں، جبکہ گجرات میں 68.12 لاکھ اور تلنگانہ میں 73.39 لاکھ نام کم ہوئے ہیں۔ راجستھان میں الیکشن کمیشن اور ریاستی الیکشن کمیشن کی ووٹر فہرستوں کے درمیان تقریباً 30 لاکھ تضادات سامنے آئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کرناٹک میں انتخابی افسران کی جانب سے نام حذف کرنے کے لیے فارم 7 کی 61,059 درخواستیں دائر کی گئیں، جبکہ آندھرا پردیش میں ایسی 20,959 درخواستوں میں انتخابی افسران کو اعتراض کنندہ کے طور پر نامزد کیا گیا۔ اڈیشہ کے دھام نگر میں نام حذف کرنے کے لیے 3,000 سے زیادہ درخواستیں موصول ہوئیں۔ جھارکھنڈ کے چترا اسمبلی حلقے سے فارم 7 کی 4,790 درخواستیں موصول ہوئیں، جو ریاست میں موصول ہونے والی کل درخواستوں کا تقریباً 36 فیصد ہیں۔
مسٹر کھرگے نے کہا کہ ہریانہ، دہلی، گوا، مغربی بنگال اور دیگر ریاستوں میں بھی ایس آئی آر کے باعث شکایات سامنے آئی ہیں۔ ان ہی شکایات کے پیش نظر مسٹر مودی اور مسٹر شاہ تحریک کو دبانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
انہوں نے سوال کیا کہ وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ چیف الیکشن کمشنر کو کیوں بچا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ توجہ ہٹانے کی حکمت عملی اور جھوٹا پروپیگنڈا مودی حکومت کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچا رہا ہے اور ملک کی جمہوریت کی شبیہ کو دھندلا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کا انڈیا اتحاد ہر شہری کے ووٹ اور آئین کے تحفظ کے لیے اپنی جمہوری جدوجہد جاری رکھے گا۔
