Masarrat
Masarrat Urdu

مشترکہ اعلامیہ کی منظوری کے بعد نئی دہلی میں 12واں برکس پارلیمانی فورم اختتام پذیر، عالمی چیلنجوں کا پائیدار حل مکالمے، امن اور تعاون میں مضمر : اوم برلا

Thumb

نئی دہلی، 27 اکتوبر (مسرت ڈاٹ کام) لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کے ہاتھوں کل افتتاح کے بعد 12واں برکس پارلیمانی فورم آج مشترکہ اعلامیے کی منظوری کے ساتھ اختتام پذیر ہوگیا۔ اعلامیے میں اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں، خودمختاری کی مساوات، باہمی احترام، داخلی معاملات میں عدم مداخلت اور بین الاقوامی تنازعات کے پُرامن حل کے لیے رکن ممالک کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔

ہندوستان کی صدارت میں منعقدہ اس فورم کا مشترکہ اعلامیہ نئی دہلی کی اہم اسٹریٹجک ترجیحات کی عکاسی کرتا ہے۔ اس میں رکن پارلیمانوں نے عالمی حکمرانی میں گلوبل ساؤتھ کی زیادہ نمائندگی یقینی بنانے کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (یو این ایس سی) میں اصلاحات کی واضح حمایت کی، جس کا ذکر نئی دہلی اعلامیے کے پیراگراف 13 میں بھی کیا گیا ہے۔

قومی سلامتی کے معاملے پر ہندوستان کے سخت موقف کی عکاسی کرتے ہوئے مشترکہ اعلامیے میں نئی دہلی اعلامیے کے پیراگراف 40 کے مطابق سرحد پار دہشت گردی، دہشت گردی کی مالی معاونت اور دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرنے کی مذمت کی گئی۔ ساتھ ہی دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی اپنانے اور دوہرے معیار ختم کرنے پر زور دیا گیا۔

اعلامیے میں ہندوستان کی قیادت میں ترقیاتی اور ماحولیاتی ایجنڈے کو بھی نمایاں جگہ دی گئی۔ اس میں ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر (ڈی پی آئی) کے ذخیرے کو وسعت دینے، مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے اخلاقی نظم و نسق، 'مشترکہ مگر مختلف ذمہ داریوں اور متعلقہ صلاحیتوں' (سی بی ڈی آر۔آر سی) کے اصول پر عمل اور ہندوستان کی برکس صدارت کے لیے متفقہ حمایت شامل ہے۔

اختتامی خطاب میں لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے کہا کہ عالمی چیلنجوں کا حل تصادم کے بجائے مکالمے، امن اور تعاون کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

برکس کے رکن اور شراکت دار ممالک کے پارلیمانی سربراہان، ممتاز مندوبین اور بین الاقوامی ارکانِ پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے دو روزہ تفصیلی تبادلۂ خیال کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ شریک ممالک کے حالات، پس منظر اور چیلنج مختلف ہونے کے باوجود انسانیت کی فلاح، امن اور خوشحالی کے لیے ان کا مشترکہ عزم ہی برکس کی اصل طاقت ہے۔

موجودہ عالمی صورت حال میں عدم استحکام، معاشی غیر یقینی اور علاقائی تنازعات کا ذکر کرتے ہوئے اوم برلا نے کہا کہ ہندوستان کا فلسفہ اس بات پر زور دیتا ہے کہ پائیدار حل جنگ میں نہیں بلکہ مکالمے، تصادم میں نہیں بلکہ امن اور مسابقت میں نہیں بلکہ تعاون میں پوشیدہ ہے۔

انہوں نے قومی خودمختاری کے مکمل احترام، بین الاقوامی تنازعات کے پُرامن حل اور سب کے لیے ترقی کے یکساں مواقع پر مبنی عالمی نظام کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا، ''عالمی امن کا مطلب سلامتی، احترام، انصاف اور سب کے لیے، بالخصوص نوجوان نسل کے لیے، بہتر مستقبل کی ضمانت ہے۔'' ان کا کہنا تھا کہ آنے والی نسلیں موجودہ رہنماؤں کا جائزہ اس بنیاد پر لیں گی کہ وہ اپنے پیچھے کس قدر سلامتی اور خوشحالی چھوڑ کر جاتے ہیں۔

جمہوری اداروں کی بدلتی ہوئی ذمہ داریوں پر روشنی ڈالتے ہوئے لوک سبھا اسپیکر نے کہا کہ پارلیمانیں محض قانون سازی کے ادارے نہیں، بلکہ مکالمے، اتفاقِ رائے، جواب دہی اور عوامی اعتماد کے اہم مراکز ہیں۔ انہوں نے دنیا بھر کی پارلیمانوں پر زور دیا کہ وہ بدلتے وقت کے تقاضوں کے مطابق خود کو ڈھالیں اور زیادہ مؤثر، شفاف اور عوام پر مرکوز اداروں کے طور پر کام کریں۔

جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کا ذکر کرتے ہوئے اوم برلا نے کہا کہ مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی پارلیمانی کارروائیوں کو آسان بنانے اور شہریوں کی شرکت بڑھانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں، بشرطیکہ ان کی ترقی انسانی اقدار، اخلاقیات، شفافیت اور جواب دہی کے اصولوں کے مطابق ہو۔ انہوں نے زور دیا کہ برکس کی کامیابی کا اصل معیار یہ ہے کہ اس کے رکن ممالک کی ترقی کے فوائد وسیع تر عالمی برادری تک پہنچیں اور عالمی فیصلہ سازی کے عمل میں گلوبل ساؤتھ کی امنگوں کو مناسب نمائندگی حاصل ہو۔

12ویں برکس پارلیمانی فورم کے کامیاب اختتام پر اوم برلا نے 2027 کے لیے برکس کی صدارت چین کے حوالے کی اور اسے مبارک باد دیتے ہوئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ چین کی قیادت میں باہمی تعاون کا سلسلہ مزید مستحکم ہوگا۔

فورم کا اختتام دنیا بھر کی پارلیمانوں سے اس اپیل کے ساتھ ہوا کہ وہ امن، تعاون اور مشترکہ خوشحالی کے لیے مؤثر آواز بنیں۔

 

Ads