مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، عطوان نے کہا کہ خطے میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کے تناظر میں اسرائیل کو داخلی انتشار اور بیرونی دباؤ جیسے متعدد چیلنجوں کا سامنا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ نئے مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل کی موجودہ حیثیت برقرار رہنا مشکل ہو سکتا ہے۔ انہوں نے اس سلسلے میں شام اور عراق میں امریکہ کے سفیر اور خصوصی نمائندے ٹام بارک کے مبینہ مؤقف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کی داخلی صورتِ حال سے متعلق خدشات امریکی حلقوں میں بھی پائے جاتے ہیں۔
عطوان کے مطابق، امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کی ایک مبینہ خفیہ رپورٹ میں اسرائیل کو درپیش داخلی خطرات اور خانہ جنگی کے امکانات کی نشاندہی کی گئی ہے۔ تاہم، اس رپورٹ کی تفصیلات یا اس کے مندرجات کی آزادانہ تصدیق سے متعلق کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔
عبدالباری عطوان نے اسرائیل کی داخلی کمزوریوں اور مستقبل کے خطرات کا ذکر کرتے ہوئے پانچ اہم عوامل کی نشاندہی کی۔
اول: فوجی اخراجات میں اضافہ: ان کے مطابق، ایران، لبنان اور غزہ میں جاری جنگوں کے باعث اسرائیل کے فوجی اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ 7 اکتوبر 2023 کو طوفان الاقصیٰ آپریشن کے بعد شروع ہونے والے تنازعات نے اسرائیل کی معیشت اور سلامتی کے نظام پر اضافی دباؤ ڈالا ہے۔
دوم: مذہبی اور سیکولر طبقات میں اختلافات: عطوان نے کہا کہ اسرائیل میں مذہبی یہودیوں، بالخصوص حریدی برادری، اور سیکولر طبقے کے درمیان اختلافات شدت اختیار کر رہے ہیں۔ ان کے بقول، یہ کشیدگی سیاسی عدم استحکام اور سماجی انتشار کو بڑھا سکتی ہے۔
سوم: متعدد محاذوں پر جنگ کا معاشی بوجھ: تجزیہ کار نے دعویٰ کیا کہ مختلف محاذوں پر جاری فوجی کارروائیوں کے اخراجات نے اسرائیل کی معیشت کو دباؤ میں ڈال دیا ہے۔ ان کے مطابق، طویل جنگوں کے باوجود اسرائیل اپنے تمام فوجی اور سیاسی اہداف حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا، جس سے اس کی حکمتِ عملی اور مستقبل کے امکانات پر سوالات اٹھتے ہیں۔
چہارم: امریکی حمایت کے مستقبل پر سوالات: عطوان نے کہا کہ اسرائیل کے لیے امریکی مالی اور فوجی امداد کے حوالے سے امریکی معاشرے اور سیاسی حلقوں میں اختلافات بڑھ رہے ہیں۔ ان کے دعوے کے مطابق، ریپبلکن اور ڈیموکریٹک جماعتوں کے بعض حلقوں میں اسرائیل کی حمایت اور ایران کے ساتھ تصادم میں امریکہ کے کردار پر تنقید کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی شہریوں کے ٹیکسوں سے اسرائیل کی مالی معاونت کے بجائے ملکی مسائل، مہنگائی اور عوامی خدمات سے متعلق مشکلات پر وسائل خرچ کرنے کے مطالبات بھی سامنے آ رہے ہیں۔
پنجم: ایران کے ساتھ تصادم کے اثرات: عطوان نے دعویٰ کیا کہ ایران کے ساتھ جنگ نے امریکہ کی فوجی اور اقتصادی صلاحیتوں پر اضافی بوجھ ڈالا ہے اور اس کی عالمی ساکھ کو متاثر کیا ہے۔ انہوں نے اس سلسلے میں 100 ارب ڈالر سے زیادہ اخراجات کا ذکر کیا، تاہم اس رقم کی مدت، مدات اور ماخذ کی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
عبدالباری عطوان کے مطابق، اسرائیل کو درپیش بنیادی خطرات میں داخلی سیاسی و سماجی انتشار اور امریکی حمایت پر انحصار شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر امریکہ اسرائیل کی مالی، فوجی اور سفارتی مدد میں نمایاں کمی کرتا ہے تو اس کے علاقائی کردار اور سلامتی کی حکمتِ عملی پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی عالمی ساکھ بھی غزہ میں جاری فوجی کارروائیوں، شہری ہلاکتوں، بھوک اور انسانی بحران کے باعث متاثر ہوئی ہے۔ عطوان کے مطابق، ان واقعات نے اسرائیل کے لیے بین الاقوامی سطح پر حمایت برقرار رکھنا مشکل بنا دیا ہے اور فلسطینی علاقوں میں اس کی پالیسیوں پر تنقید میں اضافہ ہوا ہے۔
عطوان نے فلسطینی اتھارٹی کے خلاف اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو سے منسوب دھمکیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ فلسطینی اتھارٹی کو تحلیل کرنے، اس کی سکیورٹی فورسز کو غیر مسلح کرنے، اوسلو معاہدوں کو منسوخ کرنے اور اس کے رہنماؤں کو اردن منتقل کرنے جیسے اقدامات کے سنگین سیاسی نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔
ان کے مطابق، اس نوعیت کے اقدامات فلسطینی علاقوں میں مزید عدم استحکام پیدا کرنے کے ساتھ اسرائیل کے لیے بھی نئے سیاسی اور سلامتی کے مسائل پیدا کر سکتے ہیں۔ انہوں نے ان ممکنہ اقدامات کو نیتن یاہو کی سیاسی حکمتِ عملی کے لیے خطرناک قرار دیا اور کہا کہ ان کے نتیجے میں اسرائیل کے اندر سیاسی بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔
عبدالباری عطوان نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کے توازن کی تبدیلی میں مزاحمتی گروپوں اور ان کے اتحادیوں کا کردار اہم ہے۔ ان کے مطابق، مختلف محاذوں پر جاری تنازعات نے امریکہ اور اسرائیل کی علاقائی حکمتِ عملی کو نئے چیلنجوں سے دوچار کیا ہے۔
انہوں نے مزاحمتی محاذ کی فوجی اور سیاسی مزاحمت کو اپنی کامیابی قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس صورتِ حال نے امریکہ اور اسرائیل کے علاقائی منصوبوں کو متاثر کیا ہے۔ تاہم، جنگوں کے نتائج اور مختلف فریقوں کی کامیابیوں سے متعلق یہ تجزیہ ان کا اپنا مؤقف ہے۔
عطوان نے پیش گوئی کی کہ آئندہ جنگ مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کے موجودہ توازن کو تبدیل کرنے اور عالمی سیاست میں امریکہ کے کردار پر اثر انداز ہونے کا سبب بن سکتی ہے۔ ان کے مطابق، دوسری عالمی جنگ کے بعد قائم ہونے والا عالمی نظام اور امریکی بالادستی بھی نئے چیلنجوں سے دوچار ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ خطے میں جاری تنازعات کے نتائج صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے، بلکہ ان کے اثرات عالمی سیاست، معیشت اور سلامتی کے نظام پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔
تاہم، اسرائیل کے خاتمے، امریکہ کی عالمی بالادستی کے اختتام اور آئندہ جنگ کے ممکنہ نتائج سے متعلق عطوان کے بیانات کو ان کی سیاسی و تزویراتی پیش گوئیوں کے طور پر دیکھا جانا چاہیے؛ ان نتائج کو یقینی قرار دینے کے لیے آزادانہ شواہد دستیاب ہونا ضروری ہیں۔
