مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے نائب سیکریٹری نے بتایا کہ تینوں اہم شخصیات تہران میں ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری کے ساتھ مشترکہ اجلاس میں شریک ہوں گی۔ اس ملاقات کو خطے میں سلامتی کے معاملات پر علاقائی ممالک کے درمیان تعاون اور مشاورت کو فروغ دینے کی ایک اہم کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
ایرانی عہدیدار نے کہا کہ اس اجلاس میں شریک ممالک ایران کے ساتھ مل کر علاقائی سلامتی کے ایک ایسے نظام کی تشکیل کی جانب پیش رفت کر سکتے ہیں جو بیرونی طاقتوں پر انحصار کے بجائے خطے کے ممالک کی مشترکہ کوششوں، باہمی تعاون اور مقامی صلاحیتوں پر مبنی ہو۔ ان کے مطابق، ایران کو تیسری مسلط کردہ جنگ کے دوران قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے سلسلے میں جو تجربات حاصل ہوئے ہیں، وہ دوسرے علاقائی ممالک کے لیے بھی مفید ثابت ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ خطے کے ممالک اپنے مشترکہ مفادات کو سامنے رکھتے ہوئے سلامتی کے معاملات میں تعاون کو وسعت دے سکتے ہیں۔ ان کے خیال میں، علاقائی ممالک کے درمیان مشاورت اور تجربات کے تبادلے سے ایک ایسا مؤثر سلامتی نظام تشکیل دینے میں مدد مل سکتی ہے جو خطے کے مسائل سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتا ہو اور مقامی ضروریات کے مطابق کام کرے۔
ایرانی عہدیدار کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران علاقائی سلامتی کے معاملات میں ہمسایہ اور اہم علاقائی ممالک کے کردار کو اہمیت دے رہا ہے۔ ایران، سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ جیسے ممالک کے درمیان اعلیٰ سطحی رابطے خطے میں سلامتی کے چیلنجوں پر تبادلۂ خیال اور مشترکہ حکمتِ عملی کے امکانات کو اجاگر کرتے ہیں۔
تاہم، مجوزہ اجلاس کے ایجنڈے، انعقاد کے حتمی وقت اور اس کے ممکنہ نتائج سے متعلق مزید تفصیلات رپورٹ میں فراہم نہیں کی گئیں۔
