بغداد، 25 اکتوبر (مسرت ڈاٹ کام) مزاحمت اسلامی عراق نے اعلان کیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کو جس صہیونی۔امریکی جارحیت کا سامنا ہے، وہ حق و باطل کے دو محاذوں کے درمیان جنگ کی حقیقت کو واضح کرتی ہے اور حق کے محاذ کے ساتھ کھڑے ہونا انسانی فطرت کا تقاضا ہے۔
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مزاحمت اسلامی عراق نے اسلامی جمہوریہ ایران پر غاصب صیہونی اور امریکی متوقع جارحیت کے خلاف ایک اہم بیان جاری کیا ہے۔
بیان کا متن درج ذیل ہے:
بسم الله الرحمٰن الرحیم
ملک اور خطے کو درپیش پیچیدہ حالات اور امتِ اسلامی کے فرزندوں کے خلاف صہیونی۔امریکی دشمن کے مسلسل جرائم کے تناظر میں، ہم درج ذیل نکات پر زور دیتے ہیں:
اول: عراقی خودمختاری کے خلاف امریکی دشمن کی جارحیت کا جاری رہنا اور حکومت کے ساتھ کیے گئے اپنے اعلانیہ وعدوں سے منہ پھیرنا۔ اس سلسلے میں رواں سال 30 ستمبر سے 23 اکتوبر کے عرصے کے دوران جنگی اور جاسوس طیاروں کی جانب سے فضائی حدود کی خلاف ورزی کے 171 مستند واقعات ریکارڈ کیے گئے ہیں۔ یہ طے شدہ معاہدوں اور ان سے پیدا ہونے والی ذمہ داریوں کی کھلی خلاف ورزی اور ان فرائض سے واضح انحراف ہے جو تمام فریقوں پر عائد ہوتے ہیں۔ یہ صورتِ حال حکومت کو اس اخلاقی ذمہ داری کے سامنے لا کھڑا کرتی ہے کہ وہ عراقی عوام کے سامنے واضح طور پر بات کرے اور جو کچھ ہو رہا ہے، اس کی حقیقت سے انہیں آگاہ کرے۔
دوم: اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ ہوائی اڈوں اور سرحدی گزرگاہوں کو بند کرنے سے متعلق فیصلے امریکہ کی مرضی اور اس کے مسلط کردہ احکامات کے تابع ہیں۔ ان خلاف ورزیوں اور قومی فیصلے پر جارحانہ مداخلت کے مسلسل جاری رہنے کے باوجود، ’’قومی خودمختاری کی تکمیل‘‘ کی بات کرنا ہماری قوم کے فرزندوں کی عزت و وقار اور آزادانہ ارادے کی توہین ہے۔ ایسی حکومت کی خودمختاری کی بات کیسے کی جا سکتی ہے جس کے فیصلوں کو بیرونِ ملک سے محدود کیا جاتا ہو؟ یہ صورتِ حال امریکی تسلط کو مستحکم کرتی ہے اور قومی فیصلے کی آزادی کی قیمت پر اس کے اثر و رسوخ کو بڑھاتی ہے۔
سوم: شر کی قوتوں کے مقابلے میں محاذِ حق کے ساتھ کھڑے ہونا ایک ایسی ذمہ داری ہے جس کا تقاضا انسان کی سلیم فطرت کرتی ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کو جس صہیونی۔امریکی جارحیت کا سامنا ہے، وہ حق و باطل کے دو محاذوں کے درمیان جنگ کی حقیقت کو بیان کرتی ہے۔
