تہران، 24 اکتوبر (مسرت ڈاٹ کام) ایران کے وزیر خارجہ ڈاکٹر سید عباس عراقچی نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ نے گزشتہ تین برس کے دوران امریکی عوام کے ٹیکسوں سے حاصل ہونے والی رقم میں سے 11 ارب ڈالر اسرائیل کے میزائل دفاعی نظام پر خرچ کیے ہیں۔ انہوں نے اس بھاری مالی اخراجات کی بنیاد پر امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اب یہ تعلق باہمی مفادات پر مبنی شراکت داری کے بجائے ایک یک طرفہ اور طفیلی تعلق کی صورت اختیار کرچکا ہے۔
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ڈاکٹر سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری اپنے ایک پیغام میں امریکی حکومت کے اسرائیل کی دفاعی ضروریات کے لیے کیے جانے والے اخراجات کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ تین برس کے دوران امریکی حکومت نے اپنے عوام کے ٹیکسوں سے حاصل ہونے والی آمدنی میں سے 11 ارب ڈالر اسرائیل کے میزائل دفاعی نظام پر صرف کیے ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق، امریکہ نے اسرائیل کے دفاع کے لیے خود اسرائیل سے بھی زیادہ انٹرسیپٹر میزائل داغے ہیں۔ انٹرسیپٹر میزائل ایسے دفاعی ہتھیار ہوتے ہیں جو دشمن کی جانب سے داغے جانے والے میزائلوں اور دیگر فضائی خطرات کو ہدف تک پہنچنے سے پہلے فضا میں ہی تباہ کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ جدید میزائل دفاعی نظام میں ان کی اہمیت خاص طور پر اس وقت بڑھ جاتی ہے جب کسی ملک کو مسلسل میزائل حملوں کا سامنا ہو۔
عراقچی نے امریکی اخراجات اور اسرائیل کو فراہم کی جانے والی دفاعی معاونت کا حوالہ دیتے ہوئے امریکہ اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کی نوعیت پر تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تعلق اب محض باہمی مفادات کے تحفظ تک محدود نہیں رہا، بلکہ ایک ایسا یک طرفہ رشتہ بن چکا ہے جس میں ایک فریق دوسرے پر غیر معمولی طور پر انحصار کرتا ہے۔
انہوں نے اس تعلق کو طفیلی قرار دیتے ہوئے اشارہ کیا کہ اسرائیل کے دفاعی نظام کو برقرار رکھنے اور اسے میزائل حملوں سے محفوظ رکھنے کے لیے امریکہ کو بھاری مالی وسائل اور فوجی سازوسامان فراہم کرنا پڑ رہا ہے۔ ان کے بیان کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ اسرائیل کے دفاع پر امریکی حکومت کے اخراجات کا بوجھ بالآخر امریکی ٹیکس دہندگان پر پڑتا ہے، جب کہ اس معاونت سے حاصل ہونے والے فوائد اور اس کی سیاسی و تزویراتی قیمت پر بھی سوالات اٹھائے جاسکتے ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ کا یہ بیان ایسے تناظر میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں سلامتی کی صورت حال، میزائل حملوں سے دفاع اور امریکہ کی جانب سے اسرائیل کو فراہم کی جانے والی فوجی معاونت بین الاقوامی بحث کے اہم موضوعات میں شامل ہیں۔ اسرائیل کے دفاع کے لیے امریکہ طویل عرصے سے مختلف نوعیت کی فوجی اور دفاعی مدد فراہم کرتا رہا ہے، جس میں میزائل دفاعی نظاموں کی معاونت بھی شامل ہے۔
عراقچی کے بیان میں پیش کیے گئے 11 ارب ڈالر کے اعداد و شمار اور انٹرسیپٹر میزائلوں کے استعمال سے متعلق دعووں کی آزادانہ تصدیق اس رپورٹ میں شامل نہیں ہے۔ تاہم، ان کے بیان نے امریکہ اور اسرائیل کے دفاعی تعلقات، امریکی عوام کے ٹیکسوں کے استعمال اور بیرون ملک فوجی معاونت کے اخراجات سے متعلق بحث کو ایک بار پھر نمایاں کیا ہے۔
