Masarrat
Masarrat Urdu

ٹرمپ اور نیتن یاہو کی دھمکیوں سے طاقت نہیں، بے بسی جھلکتی ہے، مشیر رہبر انقلاب

  • 24 Oct 2026
  • مسرت ڈیسک
  • دنیا
Thumb

تہران، 24 اکتوبر (مسرت ڈاٹ کام) رہبر انقلاب اسلامی کے مشیر محمد مخبر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور صیہونی حکومت کے سربراہان کی دھمکی آمیز بیان بازی پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ نفسیاتی جنگ اور دھمکیوں کے ذریعے طاقت کا مظاہرہ کرنے کی کوشش دراصل ان کی بے بسی کو ظاہر کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران اپنے دشمنوں کی کمزوریوں سے بخوبی واقف ہے اور میدان جنگ میں غیر متوقع حکمت عملی کے ساتھ ساتھ تیل اور توانائی کے شعبے میں دباؤ کے مؤثر ذرائع جنگ کے پورے حساب کتاب کو تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، محمد مخبر نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے پیغام میں امریکہ اور صیہونی حکومت کی قیادت کی جانب سے دی جانے والی دھمکیوں کو نفسیاتی جنگ کا حصہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دھمکی آمیز بیانات اور دباؤ ڈالنے کی کوششوں سے مخالف فریق کی طاقت ثابت نہیں ہوتی، بلکہ اس طرح کے اقدامات سے اس کی پریشانی اور بے بسی بھی عیاں ہوسکتی ہے۔

رہبر انقلاب کے مشیر نے اپنے پیغام میں اس بات پر زور دیا کہ ایران اپنے مخالفین کی صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ ان کی کمزوریوں سے بھی آگاہ ہے۔ ان کے مطابق، کسی بھی جنگ میں کامیابی کا انحصار محض فوجی طاقت، دھمکیوں یا سیاسی بیانات پر نہیں ہوتا، بلکہ میدان جنگ میں اختیار کی جانے والی حکمت عملی اور ایسے عوامل پر بھی ہوتا ہے جو مخالف فریق کے اندازوں کو غلط ثابت کرسکتے ہیں۔

محمد مخبر نے خاص طور پر میدان جنگ میں اچانک سامنے آنے والی چالوں اور تیل و توانائی کے شعبے میں دباؤ کے امکانات کا ذکر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ عوامل جنگ کے روایتی حساب کتاب کو یکسر تبدیل کرسکتے ہیں۔ ان کے اس بیان میں اس امر کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ علاقائی تنازعات میں فوجی محاذ کے علاوہ توانائی اور اقتصادی وسائل بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

مشرق وسطیٰ میں تیل اور توانائی کی ترسیل عالمی معیشت کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ اس خطے میں کشیدگی بڑھنے سے توانائی کی فراہمی، عالمی منڈیوں اور تیل کی قیمتوں پر اثرات مرتب ہونے کا خدشہ پیدا ہوسکتا ہے۔ اسی لیے علاقائی تنازعات کے دوران توانائی کے شعبے کو ایک اہم تزویراتی عامل سمجھا جاتا ہے۔ تاہم، محمد مخبر نے اپنے بیان میں کسی مخصوص کارروائی یا عملی منصوبے کی تفصیلات پیش نہیں کیں۔

رہبر انقلاب اسلامی کے مشیر نے اپنے پیغام کے اختتام پر ایران کی تاریخی اور تہذیبی شناخت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس خطے میں وہی قوم باقی رہے گی جو ہزاروں سال سے یہاں آباد ہے، جب کہ صیہونی حکومت کو اپنے خاتمے کے امکان پر غور کرنا پڑے گا۔ ان کے اس بیان میں ایران کی طویل تاریخی موجودگی اور صیہونی حکومت کے مستقبل کے حوالے سے ان کے سیاسی مؤقف کی عکاسی ہوتی ہے۔

محمد مخبر کے اس بیان کو ایران کی قیادت کی جانب سے امریکہ اور اسرائیل کے دباؤ کے مقابلے میں مزاحمت اور خود اعتمادی کا اظہار قرار دیا جاسکتا ہے۔ ان کے پیغام میں یہ مؤقف نمایاں ہے کہ دھمکیوں اور نفسیاتی دباؤ کے ذریعے ایران کو مرعوب نہیں کیا جاسکتا اور کسی بھی ممکنہ تصادم میں ایسے عوامل فیصلہ کن ثابت ہوسکتے ہیں جنہیں مخالف فریق اپنے ابتدائی اندازوں میں خاطر میں نہ لائے۔

 

Ads