Masarrat
Masarrat Urdu

ایران کی شرائط پوری ہونے تک مذاکرات نہیں ہوں گے؛ خطے کے ڈیٹا مراکز بھی نشانے پر، رضائی

  • 23 Oct 2026
  • مسرت ڈیسک
  • دنیا
Thumb

تہران، 23 اکتوبر (مسرت ڈاٹ کام) ایرانی قومی سلامتی کی اعلیٰ کونسل کے سیکریٹری نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ ایران کی سات شرائط پوری ہونے تک نہ مذاکرات ہوں گے اور نہ آبنائے ہرمز کھولی جائے گی؛ کہا کہ اگر جنگ دوبارہ شروع ہوئی تو خطے میں مواصلاتی تاروں اور ڈیٹا مراکز کو نشانہ بنایا جائے گا۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، رہبرِ انقلابِ اسلامی کے نمائندے اور قومی سلامتی کی اعلیٰ کونسل کے سیکریٹری میجر جنرل محسن رضائی نے ایک انٹرویو میں خطے کی حالیہ صورتِ حال اور اسلامی جمہوریہ ایران کے مؤقف کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سب کو یہ جان لینا چاہیے کہ ایران کے خلاف کارروائی کی قیمت چکانا پڑے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر سفارت کاری اس حقیقت کا ادراک پیدا کر سکتی ہے تو ہم سفارت کاری کو ترجیح دیتے ہیں، لیکن اگر جنگ جاری رہی تو ایران کے پاس جوابی کارروائی جاری رکھنے کے لیے ضروری وسائل موجود ہیں۔

ایرانی قومی سلامتی کی اعلیٰ کونسل کے سیکریٹری نے کہا کہ جنگ کے گزشتہ مراحل میں ملک کی تمام صلاحیتیں استعمال نہیں کی گئیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ جنگ کی شدت کے تناسب سے ہم نے مزید صلاحیتوں کو میدانِ عمل میں اتارا اور اگلے مرحلے کے لیے بھی تیار ہیں۔

جنرل رضائی نے موجودہ صورتِ حال جاری رہنے کے نتائج کے بارے میں خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اس صورتِ حال کے برقرار رہنے کے تزویراتی نتائج سامنے آئیں گے۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ توانائی کی منڈیاں آئندہ تین سال تک پُرسکون نہیں ہو سکیں گی۔

انہوں نے خطے کے تعلقات کی حرکیات میں ایران کے حق میں آنے والی تبدیلیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس جنگ کے جاری رہنے سے علاقائی تعلقات کی حرکیات ایران کے حق میں تبدیل ہوئی ہیں، کیونکہ خلیج فارس کے ساحلی ممالک تیزی سے ایران کے ساتھ اپنے تعلقات کی ازسرِنو تشکیل کر رہے ہیں۔

رہبرِ انقلابِ اسلامی کے نمائندے نے مزید کہا کہ ان ممالک کو اس بات کا یقین ہو گیا ہے کہ امریکی فوج اپنے فوجی اڈوں کا دفاع کرنے کی بھی صلاحیت نہیں رکھتی، حالانکہ یہی ممالک توقع رکھتے تھے کہ امریکہ ان کے ممالک کا دفاع کرے گا۔

جنرل رضائی نے خطے میں امریکہ کے اثاثوں کے بارے میں خبردار کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کے خطے میں قیمتی اثاثے موجود ہیں۔ جنگ کی صورت میں مواصلاتی تاریں، ڈیٹا مراکز اور مصنوعی ذہانت کی تنصیبات بھی نشانے پر آ سکتی ہیں۔ اگر لڑائی دوبارہ شروع ہوئی تو ہمارے پاس زیادہ وسیع منصوبہ ہوگا۔

انہوں نے آبنائے ہرمز اور اس کے انتظام کے بارے میں کہا کہ پہلی بات یہ ہے کہ دنیا کے ہر حصے میں اسمگلنگ ہوتی ہے، لیکن آبنائے ہرمز ایران کے کنٹرول میں ہے اور ہم ہی اس کا انتظام کرتے ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ گزشتہ دو سے تین ماہ کے دوران ہم نے اوسطاً ہر رات ان اسمگلروں سے تعلق رکھنے والے پانچ بحری جہازوں کو نشانہ بنایا ہے۔ یہ وہی لوگ ہیں جن کی قیادت امریکی سینٹ کام کا کمانڈر کرتا ہے اور وہ متحدہ عرب امارات کی فوجی قوتوں کو بھی استعمال کرتا ہے۔

انہوں نے آبنائے ہرمز کی تزویراتی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز کا انتظام ہمارے لیے ایک قومی سرمایہ ہے اور معاملہ محض محصول وصول کرنے کا نہیں ہے۔ اصل مسئلہ سلامتی ہے۔ سلامتی، انشورنس اور ماحولیات کے اخراجات کے نام پر بھی رقوم وصول کی جا سکتی ہیں، لیکن آبنائے ہرمز کے انتظام کی اہمیت اس سے حاصل ہونے والی آمدنی سے کہیں زیادہ ہے۔

جنرل رضائی نے سفارت کاری اور مذاکرات کے حوالے سے ایران کے مؤقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ہم سابقہ سفارتی طریقۂ کار کی طرف واپس نہیں جائیں گے، لیکن سفارت کاری کو بھی ترک نہیں کریں گے۔ ہم نے ثالثوں کے ذریعے سات نئی شرائط پیش کی ہیں۔ جب تک ان شرائط پر عمل درآمد نہیں ہوتا، ایران نہ آبنائے ہرمز کھولے گا اور نہ مذاکرات کی میز پر واپس آئے گا۔

انہوں نے معاہدے کے نئے طریقۂ کار کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس بار فرق یہ ہے کہ ہم ضمانت کو خود معاہدے کے ڈھانچے میں شامل کر رہے ہیں۔ پہلے فریق کی جانب سے وعدوں پر عمل درآمد ہوگا، اس کے بعد آبنائے ہرمز کھولنے کے بارے میں ایران فیصلہ کرے گا اور پھر عمان کے ساتھ طے شدہ نئے انتظامات کے تحت بحری آمدورفت دوبارہ شروع ہوگی۔

ایرانی قومی سلامتی کی اعلیٰ کونسل کے سیکریٹری نے زور دیتے ہوئے کہا کہ اب ہمیں ایسے کسی معاہدے میں دلچسپی نہیں ہے جس کی واحد ضمانت دوسرے فریق کی جانب سے سیاسی نیک نیتی ہو۔

رضائی نے آخر میں کہا کہ اگر واشنگٹن اپنے وعدوں پر عمل کرتا ہے تو آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور سفارت کاری جاری رکھنے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ تاہم ایران پہلے اس دباؤ کے ذریعے کو نہیں چھوڑے گا جس نے مخالف فریق کو مذاکرات کی میز پر آنے پر مجبور کیا ہے اور اس کے بعد بیٹھ کر یہ انتظار نہیں کرے گا کہ وعدوں پر عمل ہوتا ہے یا نہیں۔

Ads