Masarrat
Masarrat Urdu

حوثی حملوں کے بعد سعودی عرب کے دفاع کے لیے ہر ممکن مدد فراہم کریں گے: پاکستان

Thumb

اسلام آباد، 19 اکتوبر (یو این آئی) پاکستان نے یمن کے حوثیوں کے سعودی عرب پر حملوں کے بعد مملکت کے دفاع کے لیے ’’ہر ممکن مدد‘‘ فراہم کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے ’انڈیپنڈنٹ عربیہ‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں یہ بات کہی۔ ان کا یہ بیان ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کی جانب سے سعودی سرزمین پر میزائل اور ڈرون حملوں میں اضافے کے درمیان سامنے آیا ہے۔

پاکستان مکہ مشترکہ دفاعی اتحاد کا رکن ہے، جس میں سعودی عرب اور ترکیہ بھی شامل ہیں۔ اس اجتماعی دفاعی معاہدے کے تحت کسی ایک رکن پر حملے کو تمام ارکان پر حملہ تصور کیا جائے گا اور دیگر ارکان متاثرہ ملک کے دفاع کے لیے آگے آئیں گے۔ تاہم، سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں میں مسلسل شدت کے باوجود اسلام آباد اور انقرہ نے اب تک بیانات جاری کرنے کے علاوہ کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا ہے۔

چوہدری نے کہا کہ سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی، بالخصوص حرمین شریفین کی حفاظت، پاکستان کے لیے اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا، ’’پاکستان کے لیے یہ معاملہ ناقابلِ سمجھوتہ اور قطعی ہے۔ اس مقصد کے لیے جس مدد کی ضرورت ہے، وہ فراہم کی جا رہی ہے اور آئندہ بھی فراہم کی جائے گی۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ فوجی اتحاد اپنی مدد کی نوعیت اور اس کے پیمانے کی تفصیلات عام طور پر ظاہر نہیں کرتے۔

حوثی حملوں پر پاکستان میں ردعمل کا ذکر کرتے ہوئے چوہدری نے کہا کہ ملک کے عوام، سیاسی قیادت اور فوجی قیادت میں بڑے پیمانے پر غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’آخر کوئی بھی ذی شعور شخص سعودی عرب، مقدس مقامات پر حملہ کیوں کرے گا یا انہیں دھمکی کیوں دے گا، یا کم از کم ایسا تاثر کیوں پیدا کرے گا؟‘‘ ان کا کہنا تھا کہ اسلامی مقدس مقامات کی سلامتی کے معاملے میں کوئی شرط یا سمجھوتہ نہیں ہوسکتا۔

یہ پوچھے جانے پر کہ اگر حوثی حملے جاری رہے تو کیا اسلام آباد کی مدد صرف دفاعی نوعیت تک محدود رہے گی، چوہدری نے کہا کہ مکہ اتحاد کے تینوں ارکان اس بات پر متفق ہیں کہ معاہدے کا کوئی جارحانہ مقصد نہیں اور یہ مکمل طور پر دفاعی نوعیت کا ہے۔

اقوام متحدہ کے منشور کی دفعہ 51 کا حوالہ دیتے ہوئے، جو حقِ دفاع کو تسلیم کرتی ہے، انہوں نے کہا کہ اس اتحاد کا مقصد اجتماعی ردعمل کے ذریعے رکن ممالک کو لاحق خطرات کی روک تھام کرنا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’اگر یہ بازدارانہ حکمت عملی مؤثر ثابت نہیں ہوتی تو تینوں ممالک کو دستیاب تمام ذرائع استعمال کرتے ہوئے اسے دوبارہ مؤثر بنانا ہوگا۔‘‘

سعودی نائب وزیر خارجہ کی جانب سے حوثیوں کے ساتھ ایران کے تعلقات کی نشاندہی کے بعد، جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا اسلام آباد نے تہران کو حملوں کے حوالے سے خبردار کیا ہے، تو چوہدری نے کہا کہ پاکستان کشیدگی میں مزید اضافے کو روکنے کے لیے تہران سمیت تمام فریقوں سے رابطے میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان رابطوں کا بنیادی مقصد ’’کشیدگی کو کم کرنا‘‘ ہے اور تمام فریقوں کے ساتھ پاکستان کی بات چیت کا محور حالات کو معمول پر لانا ہے۔

چوہدری نے خبردار کیا کہ حوثیوں یا دیگر فریقوں کو تنازع میں شامل کرکے اس کا دائرہ وسیع کرنے سے بحران حل نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا، ’’خواہ آپ اس میں حوثیوں کو شامل کریں یا دوسرے علاقوں تک پھیلائیں، اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ اس کا فائدہ صرف ان لوگوں کو ہوگا جو خطے میں افراتفری چاہتے ہیں۔‘‘

ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ پاکستان واضح اشارے دے رہا ہے کہ اجتماعی بازدارانہ صلاحیت فعال ہے اور اس پر عمل درآمد بھی ہوچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب اور حرمین شریفین کی سلامتی اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا۔مکہ معاہدے کے ایران یا اسرائیل کے خلاف تشکیل دیے جانے سے متعلق قیاس آرائیوں پر چوہدری نے کہا کہ یہ اتحاد کسی مخصوص ملک کے خلاف نہیں اور نہ ہی اس کا کوئی جارحانہ مقصد ہے۔ اس کے بجائے، اس کا مقصد خطے میں امن، استحکام اور سلامتی کو فروغ دینا ہے۔ ان مقاصد کے لیے خطرہ بننے والے کسی بھی فریق کے اقدام سے اجتماعی بازدارانہ نظام حرکت میں آسکتا ہے۔

بحیرۂ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری آمدورفت کو لاحق بڑھتے ہوئے خطرات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے آبنائے باب المندب اور آبنائے ہرمز میں خطرات کی بھی نشاندہی کی۔ انہوں نے بتایا کہ سعودی عرب نے کثیرملکی بحری دفاعی اتحاد قائم کیا ہے، جس میں پاکستان کا ایک بحری افسر نائب کمانڈر کے طور پر خدمات انجام دے رہا ہے۔

مسلم دنیا میں اتحاد کی اپیل کرتے ہوئے چوہدری نے علاقائی ممالک پر زور دیا کہ وہ تنازع کو مزید پھیلانے سے گریز کریں۔ انہوں نے کہا، ’’ہمیں ایک دوسرے پر حملے بند کرنے کی ضرورت ہے۔‘‘ ان کے مطابق، امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ شروع ہونے کے بعد سے پاکستان تمام فریقوں کو یہی پیغام دے رہا ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر سفارتی کوششیں ناکام ہوئیں اور بحران ایک وسیع تر فوجی تصادم میں تبدیل ہوگیا تو مکہ اتحاد کے اجتماعی دفاعی انتظامات حرکت میں آجائیں گے۔

چوہدری نے معاہدے پر ہونے والی تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان دیرینہ تعلقات ہیں اور اتحاد نے تیزی سے پیش رفت کی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اجتماعی دفاع اور علاقائی استحکام کے عزم سے اتفاق کرنے والے دوسرے ممالک بھی اس میں شامل ہوسکتے ہیں، تاہم توسیع کا فیصلہ تینوں ممالک کی سیاسی، تزویراتی اور فوجی قیادت کرے گی۔

اس ماہ کے اوائل میں ریاض میں مکہ اتحاد کے ہنگامی اجلاس کے بعد تینوں ممالک نے سعودی عرب میں فوجی دستوں اور صلاحیتوں کی فوری تعیناتی کے انتظامات کرنے پر اتفاق کیا تھا۔

7 اگست کو دستخط کیے گئے اس معاہدے کے تحت کسی ایک رکن پر حملے کو تمام ارکان پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ چوہدری نے 18 ستمبر کو بھی کہا تھا کہ پاکستان سعودی عرب کے دفاع کے لیے ’’کسی بھی حد تک‘‘ جاسکتا ہے اور مملکت کی سلامتی کے لیے اسلام آباد کا عزم ’’غیر مشروط‘‘ ہے۔

 

Ads