ہندوستان نے کہا ہے کہ یہ بات نہایت مایوس کن ہے کہ او آئی سی نے ایک بار پھر پاکستان کو اپنے تنگ نظر ایجنڈے کے لیے تنظیم کو استعمال کرنے کی اجازت دی ہے۔
وزارتِ امورِ خارجہ نے پیر کے روز ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر اور لداخ ملک کا اٹوٹ حصہ ہیں اور او آئی سی کو ہندوستان کے اندرونی معاملات پر تبصرہ کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔ آرٹیکل 370 منسوخ کیے جانے کے بعد جموں و کشمیر میں بنیادی ڈھانچے، سیاحت اور مواصلاتی سہولیات کی ترقی سے اقتصادی پیش رفت ہوئی ہے اور عوام کو اس کا براہِ راست فائدہ پہنچا ہے۔
ہندوستان نے پاکستان کے زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کی صورتحال پر بھی سوالات اٹھائے ہیں اور کہا ہے کہ وہاں پاکستان نے احتجاج کرنے والے عام شہریوں کے خلاف تشدد اور جبر کا استعمال کیا ہے، جس میں خواتین اور بچوں سمیت متعدد افراد کی موت ہوئی ہے۔ ہندوستان نے کہا ہے کہ میڈیا پر پابندیاں عائد کر کے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو چھپایا نہیں جا سکتا۔
ہندوستان کا کہنا ہے کہ جموں و کشمیر کے بارے میں صرف ایک ہی معاملہ زیرِ بحث باقی ہے اور وہ یہ کہ پاکستان جموں و کشمیر کے علاقوں سے اپنا غیر قانونی قبضہ ختم کرے اور سرحد پار دہشت گردی کی پشت پناہی بند کرے۔
بیان میں او آئی سی کی قراردادوں میں 'اسلامو فوبیا' سے متعلق الزامات کو بھی مسترد کر دیا گیا۔ وزارت نے کہا کہ پاکستان اس طرح کے الزامات عائد کر کے اقلیتوں پر مظالم، فرقہ وارانہ تشدد، ناکام حکمرانی اور سیاسی عدم استحکام سے جڑے اپنے ریکارڈ سے دنیا کی توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہا ہے۔
ہندوستان نے کہا ہے کہ پاکستان کے ہندوستان مخالف پروپیگنڈے کی بار بار حمایت کرنے سے او آئی سی کی ساکھ اور غیر جانبداری پر سنگین سوالات کھڑے ہوتے ہیں۔ ہندوستان نے تنظیم کے رکن ممالک سے اس رویے میں اصلاح کی امید ظاہر کی ہے۔
