جعفر نے کہاکہ ’’ہاں، میں نے اس عہدے کے لیے درخواست دی ہے۔‘‘ 48 سالہ جعفر نے ہندوستان کے لیے 31 ٹیسٹ میچ کھیلے اور 5 سنچریاں بنائیں۔ ان میں ویسٹ انڈیز اور پاکستان کے خلاف ڈبل سنچریاں بھی شامل ہیں۔ ان کا ٹیسٹ کریئر 2000 سے 2008 تک رہا۔ اس دوران انہوں نے 34.10 کی اوسط سے 1944 رن بنائے۔ ون ڈے میں جعفر نے 2006 میں صرف 2 میچ کھیلے۔
تاہم، گھریلو کرکٹ میں جعفر کا ریکارڈ شاندار رہا ہے۔ وہ رنجی ٹرافی کی تاریخ میں سب سے زیادہ رن بنانے والے بلے باز ہیں اور اس مقابلے میں سب سے زیادہ سنچریاں بھی ان کے نام ہیں۔ انہوں نے 260 فرسٹ کلاس میچوں میں 50 سے زیادہ کی اوسط سے 19410 رن بنائے اور 57 سنچریاں اسکور کیں۔ انہوں نے 1996-97 کے سیزن میں ممبئی کی جانب سے اپنے سینئر کرکٹ کریئر کا آغاز کیا تھا اور ودربھ کی نمائندگی کرتے ہوئے کرکٹ کے تمام فارمیٹس سے ریٹائرمنٹ لے لی۔
اگر اشوک ملہوترا اور جتن پرانجپے پر مشتمل کرکٹ مشاورتی کمیٹی (سی اے سی) انہیں منتخب کرتی ہے تو سلیکشن کمیٹی کے چیئرمین کے عہدے کے لیے زیر غور امیدواروں میں جعفر کے نام سب سے زیادہ ٹیسٹ میچ کھیلنے کا ریکارڈ ہوگا۔ اسی بنیاد پر وہ سلیکشن کمیٹی کے چیئرمین بن سکتے ہیں۔
جعفر نے پرگیان اوجھا سے 7 ٹیسٹ زیادہ کھیلے ہیں۔ اوجھا نے ہندوستان کے لیے 24 ٹیسٹ میچ کھیلے ہیں۔ اوجھا کے علاوہ موجودہ سلیکٹرز میں آر پی سنگھ، اجے راترا اور شیو سندر داس شامل ہیں۔
