Masarrat
Masarrat Urdu

ایران، سعودیہ اور یمن کے درمیان مسائل کے پُرامن حل میں مدد کے لیے تیار ہے، بقائی

Thumb

تہران، 17 اکتوبر (مسرت ڈاٹ کام) ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران، یمن کے معاملے پر اپنے اصولی مؤقف پر قائم ہے اور سعودی عرب اور یمن کے درمیان مسائل کے پُرامن حل میں مدد کے لیے تیار ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے صحافیوں سے گفتگو میں سعودی عرب اور یمن کے درمیان کشیدگی کے حوالے سے اسلامی جمہوریہ ایران کے مؤقف کی وضاحت کی اور سفارت کاری کے ذریعے مسائل کے حل کے لیے دونوں فریقوں کے درمیان مذاکرات کی ضرورت پر مبنی ایران کے اصولی مؤقف پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران، تنازعات کے خاتمے میں مدد کے لیے ہمیشہ اپنی خیرسگالی کی کوششیں بروئے کار لانے کے لیے تیار رہا ہے اور اب بھی آمادہ ہے کہ اگر دونوں فریق درخواست کریں تو اس مقصد کے لیے اپنی تمام صلاحیتوں کو استعمال کرے۔

بقائی نے سعودی عرب اور یمن کے درمیان تنازعات کے پس منظر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 12 برس کے واقعات نے ثابت کر دیا ہے کہ بیرونی مداخلت، فوجی طریقۂ کار اور محاصرہ، یمن کے مسئلے کا حل نہیں ہیں۔ یمنی عوام ایک دہائی سے زائد عرصے سے اپنے ملک کی بحری اور فضائی ناکہ بندی کے مقابلے میں ثابت قدم رہے ہیں اور انہوں نے قابلِ مثال صبر کے ساتھ اس ظالمانہ محاصرے کے نتائج برداشت کیے ہیں، جس کی منصوبہ بندی خطے سے باہر کے عناصر، بالخصوص برطانیہ اور امریکہ نے کی ہے؛ لیکن توقع ہے کہ خطے کے ممالک اور عالمِ اسلام کے ممالک اس صورتِ حال کے خاتمے کے لیے سنجیدگی سے کوشش کریں گے۔

ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے سعودی وزارتِ خارجہ کے ایک عہدیدار کی جانب سے ایران پر یمنی باشندوں کو سعودی عرب پر حملوں کے لیے اُکسانے کے الزام کے بارے میں کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران، یمنی کاروائیوں میں ایران کے کردار سے متعلق ہر دعوے کو مسترد کرتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ یمن کے مسئلے کے حل کے لیے اس کی قومی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام، اس کے داخلی امور میں ہر قسم کی مداخلت کا خاتمہ اور سب سے بڑھ کر اس کی فضائی اور بحری ناکہ بندی ختم کرنا ضروری ہے۔

بقائی نے مزید کہا کہ یمنی مسلح افواج اپنے مفادات کی بنیاد پر کارروائی کرتی ہیں۔ ایران اور اس کے دوستوں کے تعلقات سے واقف افراد کے لیے اس طرح کے دعوے قابلِ یقین نہیں ہیں۔ تاہم، ایران کشیدگی میں اضافے کو کسی بھی فریق کے مفاد میں نہیں سمجھتا۔

Ads