’فیملی فل ہاؤس ود روہت شرما‘ پروگرام میں مقابلہ کرنے والے دیپک سے بات چیت کے دوران روہت نے بنگلہ دیش میں کھیلے گئے ایک میچ کا واقعہ بیان کیا، جب ان کے انگوٹھے پر گیند لگی تھی اور انہیں میدان سے باہر جانا پڑا تھا، لیکن چوٹ کے باوجود وہ دوبارہ کھیلنے میدان میں اترے تھے۔
روہت نے کہا، ’’سیدھی سی بات ہے، ملک کے لیے کھیلنے کا موقع سب لوگوں کو نہیں ملتا۔ جب آپ کے پاس یہ موقع ہو تو آپ کو اپنے اندر کی ہر صلاحیت سامنے رکھ دینی چاہیے۔ آپ کے اندر جتنی بھی طاقت ہے، سب کچھ میدان میں دے دینا چاہیے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ جب بھی وہ ملک کی نمائندگی کرتے ہیں تو ان کے ذہن میں صرف ایک ہی بات ہوتی ہے کہ میچ کیسے جیتا جائے۔ روہت نے کہا، ’’میچ جیتنے کے لیے اگر کچھ کرنا پڑے تو ہم ایک بار، دو بار یا تین بار نہیں سوچتے، بس وہ کام کر دیتے ہیں۔‘‘
انگوٹھے پر گیند لگنے کے باوجود دوبارہ میدان میں اترنے کے بارے میں روہت نے کہا، ’’انگوٹھے پر ہی تو گیند لگی تھی، ایسی کون سی بات تھی جس کی وجہ سے میں میدان میں جا کر نہیں کھیل سکتا تھا۔ یہ سب چیزیں ہماری زندگی میں ہوتی رہتی ہیں۔‘‘
روہت کے اس جواب نے ہندوستانی کرکٹر کے طور پر ملک کی نمائندگی کے تئیں ان کے عزم اور جذبے کی عکاسی کی۔ پروگرام میں ہونے والی گفتگو نے کھیل کے بارے میں ان کی سوچ اور مضبوط عزم کی بھی جھلک پیش کی۔
