مسٹر پردھان نے جمعہ کے روز ووٹر لسٹ کی خصوصی تفصیلی نظر ثانی (ایس آئی آر) کے معاملے پر چیف الیکشن کمشنر گینیش کمار کے استعفے کے مطالبے کے حق میں ہونے والے احتجاجی مظاہرے کے حوالے سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' پر لکھا کہ قومی مفاد، نظام کی اصلاح اور طلباء کی فلاح و بہبود کے نام پر شروع کیے گئے احتجاجی مظاہروں کا اصل کردار اب کسی سے چھپا نہیں ہے۔ انہوں نے کہا، "کھلے عام 'اقتدار کی تبدیلی' کی بات کرنا اور بنگلہ دیش سے تحریک حاصل کرنا واضح طور پر ظاہر کرتا ہے کہ طلباء کی آڑ میں ملک میں انارکی پھیلانے اور سیاسی نظام کو غیر مستحکم کرنے کی یہ ایک سوچی سمجھی سازش ہے۔ تاہم، غیر ملکی طاقتوں کے بل بوتے پر اقتدار حاصل کرنے کا خواب دیکھنے والے ان ملک دشمن عناصر کو سمجھنا چاہئے کہ ہندوستان میں اقتدار کی تبدیلی صرف جمہوری طریقہ کار کے ذریعے ہی ہوتی ہے۔ اس لیے ملک کے عوام اس غیر جمہوری سوچ کو کبھی قبول نہیں کریں گے۔"
انہوں نے کانگریس رہنما راہل گاندھی کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر بار بار عوامی مینڈیٹ کی توہین کرتے ہیں۔ انہوں نے کانگریس پر تنقید کرتے ہوئے کہا، "انتخابی عمل سے من چاہے نتائج نہ ملنے پر جمہوری اداروں کے تئیں بے اعتمادی پیدا کرنے اور سیاسی مفاد کے لیے آئے دن عوام کو پریشان کرنے کی کانگریس کی کوشش ہمیشہ سے اس کا مقصد رہی ہے۔ یہ کانگریس کی اسی غیر جمہوری ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے، جس میں ہم وطنوں کے حقوق کو کچلا گیا تھا۔"
انہوں نے کہا کہ آئین ہاتھ میں لے کر گھومنے والے مسٹر گاندھی کو عوام بار بار مسترد کر چکے ہیں، لیکن اقتدار کے لالچ میں وہ عوامی مینڈیٹ کی توہین کرنے اور آئینی اداروں پر سوال اٹھا کر جمہوریت کے وقار کو تار تار کرنے پر بضد ہیں۔ مسٹر گاندھی کا جمہوریت کے تئیں یہ نفرت انگیز رویہ انتہائی شرمناک ہے!
