Masarrat
Masarrat Urdu

پوتن-ٹرمپ کی بات چیت کے نتائج نے جنگ کے حامی خیمے کے کئی لوگوں کو چونکایا: ریابکوف

  • 14 Oct 2026
  • مسرت ڈیسک
  • دنیا
Thumb

ماسکو، 14 اکتوبر (مسرت ڈاٹ کام) روسی نائب وزیر خارجہ سرگئی ریابکوف نے کہا ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پوتن اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان فون پر ہوئی بات چیت کے نتائج نے کشیدگی بڑھانے کی وکالت کرنے والوں کو حیران کر دیا ہے اور ڈیزل ایندھن پر معاہدہ انہیں ہوش میں لانے کا کام کر رہا ہے۔

مسٹرریابکوف نے منگل کے روز صحافیوں سے کہا، "بلاشبہ، صدور کے درمیان ٹیلیفون پر ہوئی بات کا بالکل انوھا نتیجہ نکلا جو جنگ چاہنے والے خیمے کے کئی لوگوں کے لیے چونکا دینے والا تھا اور ایسے لوگوں کی تعداد بہت ہے۔ ہم نے ہمیشہ سیاسی حل کی وکالت کی ہے اور آگے بھی کرتے رہیں گے۔ اگر دوسری طرف کے لوگ اس کے لیے تیار نہیں ہیں تو ان کے مقاصد فوجی طریقوں سے حاصل کیے جائیں گے اور اس سے بات چیت میں ان کی پوزیشن کمزور ہوگی۔ انہیں جتنی جلدی یہ بات سمجھ میں آ جائے اتنا ہی اچھا ہے۔"

مسٹرریابکوف نے کہا کہ روس یوکرین کے معاملے میں امریکہ کے ساتھ رابطے میں ہے لیکن معلومات کو لیک نہیں ہونے دیں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سال ختم ہونے سے پہلے روس اور امریکہ کے درمیان اختلافات کے امور پر ایک نئی میٹنگ ہو سکتی ہے۔

سفارت کار نے کہا کہ ماسکو اور واشنگٹن کی اپنی اپنی سمتیں ہیں جن میں وہ آگے بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایسی میٹنگیں بےکار نہیں ہوتیں اور روس کے پاس پیش کرنے کے لیے بہت کچھ ہے۔

مسٹرریابکوف نے کہا کہ امریکہ-روس کی سہ فریقی میٹنگ کو لے کر کوئی ٹھوس معاہدہ نہیں ہوا ہے اور یوکرین پر دباؤ ڈالے بغیر کوئی پیش رفت نہیں ہوگی۔

مسٹرریابکوف نے صحافیوں سے کہا، "میری سمجھ سے، اس معاملے پر کوئی پکا سمجھوتہ نہیں ہوا ہے۔ امکانات بڑھیں گے یا نہیں، یہ سب سے پہلے ان لوگوں کے رخ پر منحصر ہے جن کا یوکرین پر اثر ہے۔ کیف پر خاطر خواہ دباؤ ڈالے بغیر کوئی پیش رفت نہیں ہوگی۔"

مسٹرریابکوف نے کہا کہ بیلجیم کو سمجھ نہیں آ رہا کہ اور کیا کیا جائے، اس لیے روس کے خلاف نئی پابندیوں کی اسکیمیں مکمل طور پر عام یورپی شہریوں کو دھیان میں رکھ کر بنائی گئی ہیں۔

مسٹر ریابکوف نے صحافیوں سے کہا، "نیا پیکج، پرانا پیکج۔ یہ پیکجز خود اپنے حل کی ہی نفی کر رہے ہیں۔ انہیں سمجھ نہیں آ رہا کہ اب کیا پیش کریں۔ ایسے اقدامات عام یورپی لوگوں کے لیے بنائے گئے ہیں۔"

روسی نائب وزیر خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ روس نے پابندیوں کے درمیان کام کرنا بہت پہلے ہی سیکھ لیا ہے۔

 

Ads