چیف جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جوئے مالیا باگچی اور جسٹس وی موہنا کی بنچ نے معاملے کی سماعت کرتے ہوئے کہا کہ وہ چاہیں گے کہ اس معاملے میں مدد کرنے یا وضاحت پیش کرنے کے لیے کوئی سینئر افسر یہاں موجود رہے۔ یہ ہدایت بنچ کی جانب سے 'نیٹ ورک آف وومین ان میڈیا، انڈیا' کی ایک عرضی پر سماعت کے دوران دی گئی۔ اس میں عرضی گزاروں نے مظاہروں اور عوامی تقریبات کی رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں کے لیے حفاظتی اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔
عرضی گزار تنظیم کی جانب سے پیش ہونے والی سینئر وکیل اندرا جے سنگھ نے عدالت کو بتایا کہ یہ عرضی خاص طور پر احتجاجی مظاہروں کی رپورٹنگ کے دوران خاتون صحافیوں کو جھیلنی پڑی جنسی ہراسانی کے الزامات سے متعلق ہے۔ انہوں نے درخواست کی کہ اس معاملے کی سماعت 10 اکتوبر کے مظاہروں سے جڑی دیگر عرضیوں کے ساتھ کی جائے۔ انہوں نے بنچ کو مطلع کیا کہ سالیسٹر جنرل تشار مہتہ کو پیشگی نوٹس بھیج دیا گیا ہے۔
عرضی میں مبینہ مار پیٹ، ڈرانے دھمکانے اور من مانی حراست کے خلاف صحافیوں کے لیے تحفظ کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی مظاہروں کے دوران صحافیوں کے ساتھ پولیس کے رویے کو ضابطے میں لانے والے قابلِ نفاذ رہنما خطوط، مبینہ واقعات کی آزادانہ جانچ اور قصوروار پائے جانے والے پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔
عرضی میں خاتون صحافیوں کے ان الزامات کا حوالہ دیا گیا ہے جن میں کہا گیا ہے کہ پریس کی رکن ہونے کی حیثیت سے اپنی شناخت ظاہر کرنے کے باوجود ان کے ساتھ ہاتھ پائی کی گئی، انہیں حراست میں لیا گیا اور ان کے پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی سے روکا گیا۔
اس میں 3 اکتوبر کے ایک الگ واقعے کا بھی ذکر ہے جس میں تین خاتون صحافیوں نے جنتر منتر کے پاس ایک احتجاجی مظاہرے کے بعد اپنی حراست کے دوران دہلی پولیس کے اہلکاروں کی جانب سے جنسی ہراسانی کا الزام عائد کیا تھا۔ دہلی پولیس نے کہا ہے کہ ان شکایات کو منصفانہ جانچ کے لیے اپنی کرائم برانچ کو منتقل کر دیا گیا ہے۔
قومی انسانی حقوق کمیشن نے بعد میں ان الزامات پر از خود نوٹس لیا اور دہلی پولیس کمشنر سے تفصیلی رپورٹ طلب کی ہے۔
سپریم کورٹ نے 11 اکتوبر کو ہدایت دی تھی کہ مظاہروں کے دوران نقل و حمل پر پابندی اور غیر قانونی حراست کے الزامات سے نمٹتے وقت وکلاء، صحافیوں اور دیگر پیشہ ور افراد کو ان کے پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی میں رکاوٹ نہیں ڈالی جانی چاہیے۔
اس معاملے پر 15 اکتوبر کو متعلقہ عرضیوں کے ساتھ سماعت کی جائے گی۔
