Masarrat
Masarrat Urdu

سپریم کورٹ کی دہلی میں بیریکیڈنگ کا جائزہ لینے، انٹرنیٹ بحال کرنے اور میٹرو خدمات معمول کے مطابق چلانے کی ہدایت

Thumb

نئی دہلی، 11 اکتوبر (مسرت ڈاٹ کام) سپریم کورٹ نے اتوار کو خصوصی سماعت کے دوران ہدایت دی کہ کسی بھی شخص کو قانون کے ذریعے مقررہ طریقۂ کار کے علاوہ حراست میں نہ لیا جائے، خصوصاً ان حالات میں جب لوگ امتناعی احکامات کے نفاذ والے علاقوں کے باہر پُرامن اور غیر مسلح اجتماع کر رہے ہوں۔

جسٹس جوی مالیا باگچی اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل بنچ نے حکام کو یہ ہدایت بھی دی کہ اگر سپریم کورٹ کے آس پاس کے علاقے میں بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہتا (بی این ایس ایس) کی دفعہ 163 نافذ کیے جانے سے متعلق نوٹس ابھی تک نہیں ہٹایا گیا ہے تو اسے ہٹا دیا جائے۔

عدالت نے یہ ہدایات اس بات کو یقینی بنانے کے لیے جاری کیں کہ کسی کو انصاف تک رسائی کے حوالے سے کوئی اندیشہ نہ ہو اور کسی بھی عدالت میں داخل ہونے یا وہاں سے باہر نکلنے میں رکاوٹ پیش نہ آئے۔

عدالت نے مزید ہدایت دی کہ میٹرو اور ریلوے خدمات معمول کے مطابق جاری رہنی چاہئیں، سوائے ان حالات کے جہاں عوامی نظم و ضبط میں خلل کو روکنے کے لیے پابندیاں ضروری ہوں، جیسا کہ آئین کے آرٹیکل 19(2) میں تصور کیا گیا ہے۔

سپریم کورٹ نے حکام کو دہلی بھر میں آزادانہ آمدورفت یقینی بنانے، امن و قانون کی صورت حال اور ٹریفک کے حالات کے پیش نظر بیریکیڈنگ کا جائزہ لینے اور انٹرنیٹ خدمات بحال کرنے کی بھی ہدایت دی۔ عدالت نے حکم دیا کہ ضروری عوامی نظم و ضبط کی پابندیوں کے تابع میٹرو اور ریل خدمات معمول کے مطابق جاری رہیں۔

بنچ نے مبینہ طور پر توہینِ عدالت کے مرتکب افراد کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے توہینِ عدالت کی درخواست پر جواب اور منگل تک تعمیلی رپورٹ طلب کی۔ عدالت نے یہ بھی ہدایت دی کہ کسی وکیل کو اس کی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں انجام دینے سے نہ روکا جائے۔ سماعت کے دوران پیش کی گئی دیگر درخواستوں کو بھی توہینِ عدالت کی کارروائی کے ساتھ منسلک کرنے کا حکم دیا گیا۔

 

Ads