سی جے پی نے اپنے رہنماؤں کو حراست میں لیے جانے کی اطلاع دیتے ہوئے اس کارروائی کی شدید مذمت کی ہے۔ پارٹی کی جانب سے جہاز کے اندر کا ایک ویڈیو بھی شیئر کیا گیا ہے، جس کے مطابق طیارے کے ہوائی اڈے پر اترنے کے بعد کچھ خاتون پولیس اہلکار طیارے کے اندر پہنچیں اور ان تینوں رہنماؤں سے بات چیت کر کے انہیں مظاہرے میں شامل ہونے سے روکنے اور سمجھانے کی کوشش کی۔ تاہم، بات چیت ناکام ہونے پر پولیس نے ابھیجیت دیپکے، سوربھ داس اور آشوتوش رانکا کو اپنی حراست میں لے لیا۔ اس دوران ابھیجیت دیپکے نے پولیس سے کہا کہ "دیکھو ملک کہاں جا رہا ہے، یہ آمریت ہے۔ ہم گرفتار ہونے کے لیے ہی آئے ہیں، کر لو گرفتار۔"
ادھر، سی جے پی نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ یوٹیوبر اور سوشل ایکٹیوسٹ دھرو راٹھی کو گروگرام میں واقع ان کے گھر سے حراست میں لے لیا گیا ہے۔ پارٹی نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا کہ "نوجوانوں کے سوال پوچھنے اور غلط کاموں کے خلاف آواز اٹھانے سے حکومت خائف اور ڈری ہوئی ہے۔" اسی طرح پارٹی نے اپنی لیگل افیئرز ہیڈ رتنا سنگھ کو بھی حراست میں لیے جانے کا دعویٰ کیا ہے۔
احتجاجی مقام پر شرکت کے لیے آنے والے افراد کو پولیس لگاتار حراست میں لے رہی ہے۔ تاہم، حراست میں لیے گئے کل افراد کی تعداد اور پولیس کی جانب سے کی گئی اس کارروائی کے تعلق سے تاحال کوئی باضابطہ اعداد و شمار یا بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔
قابلِ ذکر ہے کہ دہلی پولیس نے پہلے ہی واضح کر دیا تھا کہ مقررہ ضابطوں اور قانونی اجازت کے بغیر کسی بھی طرح کے مظاہرے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ متوقع احتجاج کے پیشِ نظر جنتر منتر اور اس کے آس پاس کے تمام اہم علاقوں میں بھاری پولیس فورس اور سیکورٹی اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے۔
