Masarrat
Masarrat Urdu

یمن میں تعز کی لڑائی تیز، حوثی ٹھکانوں پر تین گھنٹے میں 20 فضائی حملے

  • 02 Oct 2026
  • مسرت ڈیسک
  • دنیا
Thumb

صنعا، 2 اکتوبر (مسرت ڈاٹ کام) یمن کی مسلح افواج نے جمعہ کو تعز صوبے میں ایران نواز حوثی فورسز کے خلاف کارروائیاں تیز کرتے ہوئے تین گھنٹے کے دوران حوثی جنگجوؤں، کمک اور فوجی تنصیبات پر 20 فضائی حملے کیے۔ اس دوران صوبے کے کئی محاذوں پر شدید لڑائی جاری رہی۔

یمنی فوج کے ترجمان نے بتایا کہ فضائیہ نے تعز میں حوثیوں کی نقل و حرکت، کمک، اجتماعات، گاڑیوں اور فوجی سازوسامان کو نشانہ بناتے ہوئے 20 ’’درست فضائی حملے‘‘ کیے۔ ان کے مطابق حملوں میں اہداف کو براہ راست نشانہ بنایا گیا اور حوثی جنگجوؤں، سازوسامان اور فوجی نقل و حرکت کو نقصان پہنچا۔

تعز میں حالیہ دنوں لڑائی میں نمایاں شدت آئی ہے۔ یمنی حکومتی فورسز حوثی ٹھکانوں اور ان کی سپلائی لائنوں کے خلاف زمینی و فضائی کارروائیاں کر رہی ہیں، جبکہ حوثیوں نے بھی کئی محاذوں پر حملے تیز کیے ہیں اور سمیعہ ضلع میں نیا محاذ کھولا ہے۔

یمنی فوج کے مطابق صنعا، صعدہ اور تعز میں بھی حوثی ٹھکانوں کے خلاف کارروائیاں کی گئی ہیں۔ فوج نے صنعا میں کارروائی کو ’’اعلیٰ اہمیت کے اہداف‘‘ کے خلاف آپریشن قرار دیتے ہوئے صعدہ میں 11 اہداف کو نشانہ بنانے اور تعز میں حوثیوں کے ایک ’’مکمل فوجی نظام‘‘ پر 27 فضائی حملوں کا دعویٰ کیا ہے۔

یمنی حکومت کے مطابق مشرقی محاذوں، البیضاء اور مغربی تعز کے الوازعیہ ضلع کے المنصورہ میں حوثی جنگجوؤں اور فوجی سازوسامان کے خلاف 468 حملے کیے گئے، جن میں سیکڑوں حوثی جنگجوؤں کے ہلاک یا زخمی ہونے اور فوجی سازوسامان کی تباہی کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

دریں اثنا، تعز کے مختلف علاقوں میں شدید جھڑپوں کی اطلاعات ہیں۔ حکومتی فورسز نے تعز شہر کے شمال میں الاربعین میں حوثیوں کا بڑا حملہ پسپا کرنے اور شہر کے مشرقی مضافات میں دراندازی کی کوششیں ناکام بنانے کا بھی دعویٰ کیا ہے۔

یہ کشیدگی ایسے وقت بڑھی ہے جب چند روز قبل حوثیوں کے ڈرون حملے نے سعودی عرب کے مدینہ میں طیبہ بجلی تقسیم مرکز کو نشانہ بنایا تھا۔ سعودی عرب کے اتحادی افواج کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے حملے کی ذمہ داری حوثیوں پر عائد کرتے ہوئے اسے ’’بزدلانہ دہشت گردانہ کارروائی‘‘ قرار دیا تھا۔

 

Ads