سی پی آئی (ایم) پولٹ بیورو کے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق، احتجاج کی اجازت نہ ملنے اور بھاری پولیس فورس کی تعیناتی کے باوجود 'ڈیموکریٹک یوتھ فیڈریشن آف انڈیا' (ڈی وائی ایف آئی)، 'اسٹوڈنٹس فیڈریشن آف انڈیا' (ایس ایف آئی) اور دیگر یوتھ و اسٹوڈنٹ تنظیموں سے وابستہ سینکڑوں کارکنان جنتر منتر پہنچے۔ پارٹی نے الزام لگایا کہ دہلی پولیس نے "پورے شہر کو چھاؤنی میں تبدیل کر دیا" اور جائے احتجاج تک پہنچنے کی کوشش کرنے والے لوگوں کو زبردستی حراست میں لے لیا۔ اس دوران مظاہرین کے ساتھ دھکا مکی کی گئی اور انہیں پولیس بسوں میں ٹھونسا گیا، جس سے کئی کارکن زخمی ہو گئے۔
بیان میں کہا گیا کہ مظاہرین چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو فوری طور پر عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ سی پی آئی (ایم) نے الزام لگایا کہ مسٹر گیانیش کمار نے الیکشن کمیشن کو "بی جے پی کے انتخابی کام کاج کے بیک آفس" کے طور پر تبدیل کرنے میں کردار ادا کیا ہے۔ یہ احتجاج الیکشن کمیشن کے طرزِ عمل اور ووٹر فہرست کے ایس آئی آر کو لے کر گہراتے سیاسی تنازع کے درمیان ہوا ہے۔
اپوزیشن جماعتیں اور شہری تنظیمیں اس عمل کی شفافیت پر سوال اٹھا رہی ہیں، جبکہ کمیشن کا منطق ہے کہ اس مشق کا مقصد دوہرے اور نااہل اندراجات کو ہٹا کر ووٹر فہرست کو درست بنانا ہے۔
سی پی آئی (ایم) کے مطابق، پولیس کے ذریعے حراست میں لیے گئے رہنماؤں میں پارٹی کے جنرل سکریٹری ایم اے بے بی اور سینئر رہنما ورندا کرات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ڈی وائی ایف آئی کے جنرل سکریٹری ہماگنراج بھٹاچاریہ، ڈی وائی ایف آئی کے صدر و رکنِ پارلیمنٹ اے اے رحیم، ایس ایف آئی کے جنرل سکریٹری سِرجن بھٹاچاریہ، ایس ایف آئی کے صدر آدرش ایم شاجی اور ایس ایف آئی کے جوائنٹ سکریٹری و سابق جے این یو ایس یو صدر آئیشی گھوش کو بھی حراست میں لیا گیا۔ پارٹی نے کہا کہ ڈی وائی ایف آئی اور ایس ایف آئی کارکنوں کو ہٹانے میں پولیس کو دو گھنٹے سے زیادہ کا وقت لگا، جو نوجوانوں کی شدید مزاحمت کو ظاہر کرتا ہے۔
احتجاج کی اجازت نہ دیے جانے کی تنقید کرتے ہوئے سی پی آئی (ایم) نے کہا کہ جنتر منتر احتجاج کے لیے مقررہ مقام ہے اور وہاں لوگوں کو جمع ہونے سے روکنا ان کے پرامن احتجاج کے آئینی حق کی خلاف ورزی ہے۔ پارٹی نے الزام لگایا کہ مرکز کی بی جے پی حکومت کے اقتدار میں جمہوری حقوق میں کٹوتی کی جا رہی ہے اور جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت نہ دینا حکومت کی عدم رواداری کا ثبوت ہے۔
سی پی آئی (ایم) پولٹ بیورو نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو فوری طور پر ہٹانے، ایس آئی آر عمل کو ختم کرنے اور حراست میں لیے گئے تمام مظاہرین کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔
