کانگریس کے ے کمیونیکیشن ڈپارٹمنٹ کے انچارج جے رام رمیش نے جمعہ کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' پر کہا کہ ایک خبر میں ایک گھریلو خاتون نے بتایا ہے کہ ان کی آمدنی صرف 35,000 روپے ہے اور اتنی محدود آمدنی میں باورچی خانے کا خرچ سنبھالنا انتہائی مشکل ہو گیا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا وزیرِ اعظم نریندر مودی کو احساس ہے کہ مہنگائی کے اس دور میں خاندان اپنے گھر کا بجٹ کیسے سنبھال رہے ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ ارہر کی دال 105 روپے سے بڑھ کر 140-150 روپے فی کلو، مونگ 95 روپے سے 120 روپے، چاول 42-45 روپے سے 53-55 روپے اور سرسوں کا تیل 165 روپے سے 190 روپے فی لیٹر تک پہنچ گیا ہے۔
مسٹر رمیش نے کہا کہ حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق اگست میں غذائی مہنگائی 5.95 فیصد رہی۔ پیاز 48.27 فیصد، ادرک 73.82 فیصد اور لہسن 43.60 فیصد مہنگا ہوا ہے۔ دال، مصالحے، سبزیاں اور تیل سمیت ضروری اشیائے خور و نوش کی قیمتوں میں اضافے سے عام خاندان متاثر ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ گھریلو بچت میں کمی آ رہی ہے اور خاندانوں پر قرض بڑھ رہا ہے۔ عام خاندان کے سامنے سوال صرف بڑھتے ہوئے اخراجات کا نہیں، بلکہ گھٹتی ہوئی بچت اور محدود آمدنی میں گھر چلانے کا بھی ہے۔
کانگریس لیڈر نے کہا کہ حکومت کے لیے یہ محض اعداد و شمار ہو سکتے ہیں، لیکن عوام کے لیے یہ ہر ماہ بگڑتا ہوا گھریلو بجٹ ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ اس کمر توڑ مہنگائی سے اہل وطن کو کب نجات ملے گی۔
