اے اے پی لیڈران، آئیسا، ایس ایف آئی، این ایس یو آئی اور دیگر طلبہ تنظیموں سمیت سو سے زائد مظاہرین کو جنتر منتر اور اس کے اطراف سے حراست میں لیا گیا۔
احتجاج کے دوران حراست میں لیے جانے کے بعد سماجی کارکن یوگیندر یادو نے کہا کہ گاندھی جینتی پر اس ملک نے ایک انوکھا اور خوفناک دن دیکھا۔ انہوں نے کہا کہ اس حکومت نے وہی کیا جو انگریز حکومت کیا کرتی تھی اور اس ملک کی عوام نے وہی کیا جو ہمارے مجاہدینِ آزادی کیا کرتے تھے۔ حکومت نے جبر کیا، پولیس راج قائم کیا، بربریت کی، بولنے کی اجازت نہیں دی لیکن دہلی اور ملک کے کونے کونے سے لوگ آئے۔ انہوں نے کہا کہ گیانیش کمار کے خلاف پارلیمنٹ میں مواخذے کی کارروائی شروع نہیں کی گئی تو اس ملک کی سڑکوں پر مواخذہ چلے گا۔
انہوں نے کہا کہ آج جنتر منتر سے 'چیف الیکشن ملزم' کے خلاف مواخذے کا آغاز ہوچکا ہے۔
مسٹر سوربھ بھاردواج نے کہا کہ پرامن احتجاج کے باوجود انہیں اور سنجیو جھا کو حراست میں لیا گیا۔ انہوں نے پارٹی کارکنوں اور حامیوں سے تحریک جاری رکھنے اور جنتر منتر پہنچنے کی اپیل کی۔
ایس ایف آئی کی طلبہ رہنما آئیشی گھوش نے کہا کہ ڈی وائی ایف آئی اور ایس ایف آئی کے کئی کارکنوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔ انہوں نے پولیس کارروائی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ حراست میں لے کر تحریک کو روکا نہیں جا سکتا اور یہ تحریک کی محض شروعات ہے۔
