تہران، 2 اکتوبر (مسرت ڈاٹ کام) قدس فورس کے کمانڈر نے کہا ہے کہ سید حسن نصراللہ اور دیگر کمانڈروں کی شہادت کے باوجود حزبالله کی نئی نسل نے میدان جنگ میں بھرپور مزاحمت کرتے ہوئے صہیونی فوج کے 373 ٹینکوں اور بکتر بند گاڑیوں کو نشانہ بنایا۔
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، قدس فورس کے کمانڈر جنرل اسماعیل قاآنی نے کہا ہے کہ حزبالله نے اپنی تاریخ کی مشکل ترین جنگوں میں سے ایک میں بھرپور مزاحمت کی اور صہیونی حکومت کو بے مثال جانی نقصان اٹھانا پڑا۔
انہوں نے تہران میں مزاحمتی محاذ کے شہید کمانڈروں کی دوسری برسی کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سید حسن نصراللہ اور دیگر کمانڈروں کی شہادت کے باوجود حزبالله کی نئی نسل میدان میں اتری اور اس انداز میں جنگ لڑی کہ دوست اور دشمن دونوں حیران رہ گئے۔
جنرل قاآنی نے کہا کہ جنگ شروع ہونے اور سید حسن نصراللہ کی شہادت کے دو روز بعد حزبالله کے مجاہدین میدان میں آگئے اور آج تک بہادری کے ساتھ مقابلہ کر رہے ہیں۔ یہ جنگ حزبالله کے قیام کے بعد سے اب تک کی سخت ترین جنگوں میں شامل ہے، تاہم تنظیم نے شجاعت کے ساتھ مقابلہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ صہیونی حکومت نے اس جنگ میں دوسرے ادوار کے مقابلے میں زیادہ جانی نقصان اٹھایا، لیکن وہ اپنے نقصانات کے اعداد و شمار چھپا رہی ہے۔ ان کے مطابق حزبالله کے نئے مجاہدین نے ایسی جنگ لڑی کہ اس دوران تقریباً 373 ٹینک اور بکتر بند گاڑیاں مزاحمتی جنگجوؤں کے حملوں کا نشانہ بنیں۔
قدس فورس کے کمانڈر نے کہا کہ سید حسن نصراللہ اور سید ہاشم صفی الدین کی جدوجہد اور کردار نے حزبالله کو مزاحمت کے ایک مکتب میں تبدیل کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں شہید رہنماؤں کی زندگی معرفت، کرامت اور بزرگواری سے بھرپور تھی اور ان کے اثرات آج بھی حزباللہ کے کردار میں نمایاں ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سید عباس موسوی کی شہادت کے بعد سید حسن نصراللہ اور سید ہاشم صفی الدین نے حزبالله کو اس مقام تک پہنچایا کہ آج یہ لبنان اور مزاحمتی محاذ کے لیے باعث فخر ہے۔ حزبالله نہ صرف خود مزاحمت کی علامت بنا بلکہ دیگر اقوام اور گروہوں کے لیے بھی ایک نمونہ بن گیا۔
جنرل قاآنی نے یمن کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یمنی عوام 11 سال سے زائد عرصے کی ناکہ بندی کے باوجود مضبوط عزم کے ساتھ مزاحمت کے راستے پر آگے بڑھ رہے ہیں۔ یمنی فورسز نے اپنی کارروائیوں کے پہلے مرحلے میں 5400 مربع کلومیٹر علاقے پر قبضہ کیا، جو دفاع مقدس کے دوران بیت المقدس آپریشن میں آزاد کرائے گئے علاقے کے برابر ہے، جبکہ مزید ایک ہزار مربع کلومیٹر علاقے پر پیش قدمی جاری ہے۔
جنرل قاآنی نے کہا کہ امریکہ تمام وسائل اور طاقت کے باوجود عراق سے نکلنے پر مجبور ہوا اور عراقی عوام نے مزاحمت کی بدولت اس کامیابی کا جشن منایا۔
