پاکستان کی وزارت اطلاعات نے جمعرات کو کہا کہ قابل اعتماد خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر افغانستان میں دو مقامات پر ’’دہشت گردوں کے ٹھکانوں‘‘ کو نشانہ بنایا گیا۔ وزارت کے مطابق ابتدائی اطلاعات میں 22 عسکریت پسندوں کے مارے جانے اور ان ٹھکانوں پر ذخیرہ کیے گئے ہتھیاروں اور گولہ بارود کی تباہی کی تصدیق ہوئی ہے۔
پاکستان کے دعوے کی تردید کرتے ہوئے افغان طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ کنڑ اور ہلمند صوبوں میں تین مکانات کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں نو افراد جاں بحق اور 11 دیگر زخمی ہوئے۔
مجاہد نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا، ’’ہم اس کارروائی کو جارحیت اور تمام تسلیم شدہ اصولوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جرم قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کرتے ہیں۔‘‘
میڈیا رپورٹس کے مطابق فضائی حملے مقامی وقت کے مطابق تقریباً صبح ساڑھے تین بجے شروع ہوئے اور لگ بھگ 30 منٹ تک جاری رہے۔ افغان میڈیا کے مطابق ایک بم ایک مکان پر گرا، جس میں ایک خاندان کے کئی افراد جاں بحق اور دیگر زخمی ہوئے۔
پاکستان نے کہا کہ اس کا آپریشن ’’مکمل منصوبہ بندی اور محتاط انداز‘‘ میں کیا گیا اور شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے زیادہ سے زیادہ احتیاطی تدابیر اختیار کی گئیں۔
تازہ فضائی حملوں کے بعد دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان کئی ماہ کی نسبتاً کشیدگی کے بعد ایک بار پھر تناؤ بڑھ گیا ہے۔ اسلام آباد مسلسل افغان طالبان حکومت پر الزام عائد کرتا رہا ہے کہ وہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سمیت مسلح گروپوں کو افغان سرزمین سے سرگرمیاں انجام دینے اور پاکستان کے اندر حملے کرنے کی اجازت دے رہی ہے۔
تاہم افغان طالبان حکومت پاکستان کے ان الزامات کو مسلسل مسترد کرتی رہی ہے۔ کابل کا مؤقف ہے کہ پاکستانی سرحدوں کے اندر بڑھتی ہوئی عسکریت پسندی مکمل طور پر داخلی معاملہ ہے، جس کی وجہ ملکی سکیورٹی اور سیاسی ناکامیاں ہیں، نہ کہ سرحد پار سے کسی قسم کی سہولت کاری۔
دونوں پڑوسی ممالک کے تعلقات رواں سال کے آغاز میں ہلاکت خیز جھڑپوں اور سرحد پار حملوں کے بعد تیزی سے خراب ہوئے تھے۔
گزشتہ ماہ شمال مغربی پاکستان میں پولیس کی ایک تنصیب پر عسکریت پسندوں کے حملے میں 24 افراد ہلاک ہوئے تھے، جس کے بعد کشیدگی مزید بڑھ گئی۔ پاکستان نے افغانستان سے ہونے والے حملوں کے لیے عسکریت پسند گروپوں کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے، جبکہ کابل نے اسلام آباد کے الزامات مسترد کیے ہیں۔
پاکستان نے حالیہ ہفتوں کے دوران بھی افغانستان کے اندر متعدد فضائی حملے کیے ہیں۔
