اے ایف پی کے مطابق یمنی حکومتی عہدیدار نے دعویٰ کیا کہ حوثیوں کے میزائل اور ڈرون حملوں میں جنوب مغربی علاقوں میں 23 حکومتی فوجی مارے گئے۔ دوسری جانب حوثی فوجی ذرائع نے کہا کہ سعودی فضائی حملوں اور زمینی جھڑپوں میں ان کے 40 جنگجو ہلاک ہوئے۔ تاہم یہ اعداد و شمار دونوں فریقوں کے دعووں پر مبنی ہیں اور آزادانہ طور پر ان کی تصدیق نہیں ہوسکی۔
لڑائی میں شہریوں کے متاثر ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔ سعودی حکام کے مطابق طائف میں ایک ڈرون کو روکنے کے بعد گرنے والے ملبے کی زد میں آکر ایک شخص ہلاک اور دو زخمی ہوگئے۔ حوثیوں کے زیر انتظام میڈیا نے تعز میں سعودی حمایت یافتہ فورسز کی کارروائی میں تین بچوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا ہے۔
بین الاقوامی ادارہ برائے مہاجرت کے مطابق تازہ لڑائی کے نتیجے میں ایک لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہوچکے ہیں۔ حوثیوں کی بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں میں پیش قدمی سے اہم بحری راستوں کی سلامتی کے حوالے سے بھی تشویش بڑھ رہی ہے۔
حوثی رہنما عبدالملک الحوثی نے سعودی عرب سے حملے اور ناکہ بندی ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ سعودی فضائی کارروائیاں جاری رہنے کی اطلاعات ہیں۔ حوثیوں نے سعودی ایف-15 طیارہ مار گرانے کا بھی دعویٰ کیا ہے، جس کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی۔ یمن میں جاری کشیدگی سے عالمی توانائی کی ترسیل اور بحری تجارت پر مزید دباؤ کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔
