یہ فیصلہ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے شروع کیے جانے کے چھ ماہ سے زیادہ عرصے بعد سامنے آیا ہے، جس کے نتیجے میں دونوں فریقوں کے درمیان جنگ شروع ہوگئی تھی۔ اگرچہ بڑے پیمانے پر جاری لڑائی اب رک چکی ہے، تاہم مستقل حل اب بھی دور ہے۔ آبنائے ہرمز بدستور کشیدگی کا اہم مرکز ہے اور امریکہ-ایران مفاہمت نامہ (ایم او یو) کے تحت طے پانے والے اہم معاملات بھی ابھی حل طلب ہیں۔
جوہری مسئلے، پابندیوں اور آبنائے ہرمز کے مستقبل کے معاملے پر امریکہ اور ایران کے درمیان شدید اختلافات برقرار ہیں۔ جون میں طے پانے والی ایم او یو کا مقصد وسیع تر معاہدے کی راہ ہموار کرنا تھا۔ اس مفاہمت میں فوجی کارروائیاں ختم کرنے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی دفعات شامل تھیں، تاہم بعد کے اختلافات اور دوبارہ شروع ہونے والی کشیدگی کے باعث یہ مفاہمت پائیدار حل میں تبدیل نہیں ہوسکی۔
امریکی محکمہ خارجہ نے جمعرات کو کہا کہ اس نے ایران کے ’’بنیادی وفد‘‘ اور اقوام متحدہ کے اجلاس میں شرکت کے لیے ضروری عملے کو ویزے دینے کی منظوری دی ہے۔ امریکی حکام نے تصدیق کی کہ پزشکیان اور عراقچی بھی وفد میں شامل ہیں۔ حکام نے ویزا سے متعلق رازداری کے قوانین کے باعث نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر یہ معلومات فراہم کیں۔
فی الحال ایسے کوئی واضح اشارے نہیں ہیں کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے یا ایران کے جوہری پروگرام پر بامعنی مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے حوالے سے کوئی معاہدہ قریب ہے۔
28 فروری کی جنگ کے بعد سے آبنائے ہرمز دونوں ممالک کے درمیان تنازع کا ایک اہم مرکز بنا ہوا ہے۔ جنگ کے دوران ایران نے اس اہم آبی گزرگاہ سے آمدورفت کو مؤثر طور پر محدود کردیا تھا، جبکہ امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی کردی تھی۔ جون کی ایم او یو میں تجارتی آمدورفت بحال کرنے کا تصور پیش کیا گیا تھا، تاہم بحری راستوں، کنٹرول اور سمندری انتظامات سے متعلق اختلافات نے اس مفاہمت کو ناکام بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔
ایرانی رہنماؤں کو اقوام متحدہ کے اجلاس میں شرکت کی اجازت دینے کا امریکی فیصلہ دونوں ممالک کے درمیان جاری کشیدگی کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ نے کہا، ’’میزبان ملک کی ذمہ داریوں کے مطابق ایرانی حکومت کا بنیادی وفد اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اعلیٰ سطحی ہفتے میں شرکت کرسکے گا۔‘‘
امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان کے حوالے سے امریکی میڈیا نے بتایا کہ صدر پزشکیان اور وزیر خارجہ عباس عراقچی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک کا دورہ کرنا چاہتے ہیں۔ ایرانی وفد اور ضروری عملے کے ویزے منظور کیے گئے ہیں، تاہم وفد کے ارکان کی تعداد گزشتہ سال کے مقابلے میں کم ہے۔
محکمہ خارجہ کے ایک اہلکار نے کہا کہ امریکہ نے میزبان ملک کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں پوری کی ہیں اور ایرانی حکام جنرل اسمبلی کے اعلیٰ سطحی اجلاس میں شرکت کرسکیں گے۔ تاہم ان کا دورہ سفری پابندیوں کے تحت ہوگا اور بعض پابندیاں برقرار رہیں گی۔
دوسری جانب امریکہ نے فلسطینی صدر محمود عباس کو جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے ویزا دینے سے انکار کردیا ہے۔
اقوام متحدہ کی 81ویں جنرل اسمبلی کا اجلاس جمعہ کو نیویارک میں شروع ہوگا اور 28 ستمبر تک جاری رہے گا۔
