مسٹر گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ بی جے پی اور الیکشن کمیشن مل کر ایک سیاسی جماعت کو توڑتے ہیں اور اس کے بعد اس کا انتخابی نشان چھین لیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر پوری سیاسی جماعت کو ’’چوری‘‘ کیا جاسکتا ہے تو کروڑوں ہندوستانیوں کے ووٹوں کی ’’چوری‘‘ ہونا بھی حیرانی کی بات نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’’ووٹ چوری، حکومت چوری اور اب پارٹی چوری‘‘ جمہوری نظام کو کمزور کرنے کا سبب بن رہے ہیں۔ اپوزیشن رہنما کے مطابق الیکشن کمیشن کی آئینی ذمہ داری عوام کے مینڈیٹ کی حفاظت کرنا ہے، لیکن وہ ان طاقتوں کی مدد کر رہا ہے جو عوام کے فیصلے کو پلٹنے کی کوشش کرتی ہیں۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ یہ لڑائی صرف ممتا بنرجی کی نہیں بلکہ ہر سیاسی جماعت اور ہر اس ووٹر کی ہے جو آزاد اور منصفانہ انتخابات چاہتا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ الیکشن کمیشن نے مغربی بنگال میں ہونے والے ضمنی انتخابات کے پیش نظر اپنے عبوری حکم میں ٹی ایم سی کے حریف دھڑوں کو پارٹی کے نام ’آل انڈیا ترنمول کانگریس‘ اور ’پھول اور گھاس‘ والے انتخابی نشان کے استعمال سے روک دیا ہے۔ کمیشن نے دونوں دھڑوں سے نئے نام اور آزاد انتخابی نشان کے متبادل پیش کرنے کو کہا ہے۔
