Masarrat
Masarrat Urdu

ایران میں دو حملوں میں جنگی جرائم کے 'معقول شواہد' ملے: اقوام متحدہ کے ماہرین

  • 18 Sep 2026
  • مسرت ڈیسک
  • دنیا
Thumb

جنیوا، 18 ستمبر (مسرت ڈاٹ کام) اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین نے کہا ہے کہ ایسے معقول شواہد موجود ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ نے ایران میں دو حملوں کے دوران جنگی جرائم کا ارتکاب کیا، جن میں کم از کم 177 شہری ہلاک ہوئے۔ اقوام متحدہ کی ایران سے متعلق آزاد بین الاقوامی حقائق جانچ مشن کی نئی رپورٹ کے مطابق فروری میں میناب کے ایک پرائمری اسکول اور لامرڈ کے ایک اسپورٹس کمپلیکس پر میزائل حملے غیر امتیازی حملے کے زمرے میں آتے ہیں، جن کے نتیجے میں شہریوں کی ہلاکت اور شہری بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا۔

امریکہ اس سے قبل لامرڈ میں حملہ کرنے کی تردید کرچکا ہے اور میناب میں پیش آنے والے واقعے کی تحقیقات کی بات کہہ چکا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے ایک عہدیدار نے کہا کہ امریکہ رپورٹ میں پیش کیے گئے نتائج کو قابل اعتبار نہیں سمجھتا۔

بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق ماہرین نے یہ بھی پایا کہ جنوری میں حکومت مخالف بڑے پیمانے پر ہونے والے احتجاج کے خلاف کریک ڈاؤن کے دوران ایرانی حکام نے انسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب کیا۔ ان کے مطابق سکیورٹی فورسز کی جانب سے ہلاکتیں ملک کے تمام 31 صوبوں میں ''حیران کن اور بے مثال پیمانے'' پر ہوئیں۔

ایران نے ابھی رپورٹ کے نتائج پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے، تاہم وہ اس سے قبل انسانی حقوق کی منظم خلاف ورزیوں کے الزامات کو مسترد کرتا رہا ہے۔ حقائق جانچ مشن نے جمعرات کو جاری ایک بیان میں خبردار کیا کہ ایران کے شہری ''اپنی ہی حکومت کی جانب سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور انسانیت کے خلاف جرائم'' کے ساتھ ساتھ امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جاری مہلک تنازع کے درمیان پھنسے ہوئے ہیں۔

اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کو پیش کی گئی اپنی تازہ رپورٹ میں مشن کے تین آزاد ماہرین نے تنازع کے دوران شہریوں پر ہونے والے دو انتہائی ہلاکت خیز حملوں کی تحقیقات کیں۔

28 فروری کو، جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف جنگ شروع کی، جنوبی شہر میناب میں شجَرہ طیبہ پرائمری اسکول کو ٹوماہاک میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا۔ مقامی حکام کے مطابق حملے میں کم از کم 156 افراد ہلاک ہوئے، جن میں 120 بچے شامل تھے۔

حقائق جانچ مشن کے ماہرین کے مطابق اسکول اسی روز حملے کا نشانہ بننے والے اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) کے بحری کمپلیکس سے متصل تھا، تاہم اسکول واضح طور پر ایک تعلیمی عمارت کے طور پر شناخت کیا جاسکتا تھا اور ایسی کوئی اطلاع نہیں ملی کہ اسے فوجی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔

ماہرین نے کہا کہ میڈیا رپورٹس سمیت جمع کیے گئے شواہد کی بنیاد پر، جن میں ایک ابتدائی امریکی فوجی تحقیقات میں امریکی افواج کو ذمہ دار قرار دیے جانے کی اطلاعات بھی شامل ہیں، اور اس حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ تنازع میں ٹوماہاک میزائل رکھنے والا واحد فریق امریکہ ہے، ان کے پاس یہ سمجھنے کے معقول شواہد ہیں کہ اسکول پر حملہ امریکہ نے کیا تھا۔

ماہرین نے یہ بھی نتیجہ اخذ کیا کہ اسکول ''حملے کا متعین ہدف'' تھا اور نقصان کسی غلط نشانے یا آئی آر جی سی کمپلیکس پر حملے کے دوران ہونے والے ضمنی نقصان کا نتیجہ نہیں تھا۔ اس سلسلے میں زندہ بچ جانے والوں کے بیانات کا حوالہ دیا گیا، جن کے مطابق اسکول کو دو مرتبہ نشانہ بنایا گیا۔

امریکی فوج نے ابھی تک میناب حملے سے متعلق اپنی تحقیقات کے نتائج جاری نہیں کیے ہیں، تاہم وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا ہے کہ امریکی فوج ''کبھی بھی شہری اہداف کو نشانہ نہیں بنائے گی''۔

"پریسیژن اسٹرائیک میزائلوں (پی آر ایس ایم) کے حملے سے ٹنگسٹن کے درجنوں چھوٹے چھرے اسپورٹس کمپلیکس اور رہائشی علاقے میں دور دور تک پھیل گئے، جس کے نتیجے میں کم از کم 21 شہری ہلاک ہوئے، جن میں سات بچے شامل تھے۔"

حقائق جانچ مشن کے ماہرین نے کہا کہ اسپورٹس کمپلیکس بھی واضح طور پر ایک شہری تنصیب کے طور پر شناخت کیا جاسکتا تھا اور ایسی کوئی اطلاع نہیں ملی کہ اسے فوجی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔

 

Ads