امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق ممکنہ فروخت کے پیکیج میں 48 ایف-35 طیاروں کے علاوہ 49 انجن، مواصلاتی اور الیکٹرانک جنگی نظام، اسپیئر پارٹس، تربیتی سازوسامان، سمیولیٹرز اور دیگر معاون آلات شامل ہیں۔ معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے امریکی کانگریس کی منظوری ضروری ہوگی۔
ایف-35 لائٹننگ ٹو اسٹیلتھ ٹیکنالوجی سے لیس جدید لڑاکا طیارہ ہے۔ سعودی عرب کئی برس سے ایف-35 طیارے حاصل کرنے میں دلچسپی کا اظہار کرتا رہا ہے اور اپنی فضائی دفاعی صلاحیتوں کو جدید بنانے کے لیے امریکہ کے ساتھ دفاعی تعاون بڑھا رہا ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق مجوزہ فروخت سے سعودی عرب کی دفاعی صلاحیت اور امریکی و اتحادی افواج کے ساتھ باہمی تعاون بہتر ہوگا، جبکہ واشنگٹن کا کہنا ہے کہ اس سے خطے میں بنیادی فوجی توازن تبدیل نہیں ہوگا۔
مجوزہ معاہدہ امریکہ اور سعودی عرب کے دفاعی تعلقات میں مزید توسیع کی جانب ایک قدم ہے، تاہم امریکی کانگریس میں اس کی جانچ پڑتال متوقع ہے۔
