نئی دہلی میں قائم ’نیو لائف پرائیویٹ لمیٹڈ‘ لیبارٹری، تشخیص اور صحت کی دیکھ بھال سے متعلق مصنوعات کی تیاری اور تقسیم کے شعبے میں سرگرمِ عمل ہے اور تحقیقی و تعلیمی اداروں نیز اسپتالوں کی ضروریات پوری کرتی ہے۔ کمپنی کی مصنوعات میں حیاتیاتی مصنوعات، ری ایجنٹس، تشخیصی کٹس اور ایسے آلات شامل ہیں جو مالیکیولر بائیولوجی اور طبی تشخیص میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔ کمپنی، ادویات کی دریافت اور تیاری کے لیے مصنوعی ذہانت اور مشین لرننگ پر مبنی ’ہائی تھرو پٹ اسمال مالیکیول اسکریننگ‘ کے ساتھ ساتھ بائیو مارکر کی دریافت اور تشخیصی مقاصد کے لیے میٹابولومک، پروٹیومک اور جینومک تحقیق بھی سر انجام دیتی ہے۔ شیخ الجامعہ کی موجودگی میں، پروفیسر محمد مہتاب عالم رضوی نے ’نیو لائف پرائیویٹ لمیٹڈ‘کے منیجنگ ڈائریکٹر جناب ندیم رحمان کو مفاہمت نامے کی یادداشت باضابطہ طور پر سونپی۔ اس موقع پرمسٹر رحمان نے کمپنی کی مہارت کے شعبوں اور تحقیق، جدت طرازی، پیشہ ورانہ ترقی اور طلبہ کے لیے کیریئر کے مواقع کے سلسلے میں جامعہ کے ساتھ تعاون کے امکانات پر روشنی ڈالی۔
دوسرا مفاہمت نامہ’نیکسٹ جین لائف سائنسز پرائیویٹ لمیٹڈ‘ اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے درمیان ہوا۔ نیکسٹ جین لائف سائنسز، لائف سائنس کی مصنوعات اور تحقیقی حل کی ایک متنوع رینج پیش کرتا ہے، جس میں مالیکیولر بائیولوجی، جینومکس، سیکوینسنگ، بائیو انفارمیٹکس اور متعلقہ تشخیصی ایپلی کیشنز شامل ہیں۔ پروفیسر محمد مہتاب عالم رضوی نے شیخ الجامعہ،جامعہ ملیہ اسلامیہ کی موجودگی میں ڈاکٹر نگمہ عباسی، سی ای او اور بانی، نیکسٹ جین لائف سائنسز پرائیویٹ لمیٹڈ کو مفاہمت نامہ سونپا۔ اس موقع پر ڈاکٹر عباسی نے کمپنی کی سائنسی صلاحیتوں اور طلبہ اور محققین کے لیے تحقیق، مہارت کی ترقی، تربیت اور صنعت پر مبنی مواقع میں تعاون کی گنجائش پر روشنی ڈالی۔
پروفیسر شمع پروین، سنٹر فار انٹر ڈسپلنری ریسرچ ان بیسک سائنسزاور تقریب کی کوآرڈینیٹر نے اکیڈیمیا اور صنعت میں پائیدار مشغولیت کو فروغ دینے، خاص طور پر علم کے تبادلے، اطلاقی تحقیق، اختراعات اور پیشہ ورانہ ترقی میں مفاہمت ناموں کی اہمیت اجاگر کی۔
امید ہے کہ اس تعاون سے طلبہ کو انٹرن شپ، مقالہ جات اور صنعت پر مبنی منصوبوں کے مواقع فراہم ہوں گے، تجرباتی آموزش اور پیشہ ورانہ نمائش کو فروغ دینا۔ فریقین کے درمیان یہ شراکت داری قومی تعلیمی پالیسی دوہزاربیس کے مقاصد کے مطابق علم کے تبادلے، صلاحیت سازی، تحقیق اور اختراع میں بھی سہولت فراہم کرے گی، خاص طور پر ہنر کی نشوونما، عملی آموزش اور مستحکم علمی وصنعتی روابط پر زور ہوگا۔
پروفیسر محمد مہتاب عالم رضوی اور پروفیسر مظہر آصف نے اپنی تقریروں میں تعلیمی مہارت کو جدت اور صنعتی ضروریات سے ہم آہنگ کرنے کے لیے تعلیمی اداروں اور صنعت کے مابین مسلسل رابطے اور اشتراک کی اہمیت پر زور دیا۔ فیکلٹی آف لائف سائنسز کے ڈین، پروفیسر محمد زاہد اشرف نے اختتامی گفتگو کرتے ہوئے سب کا شکریہ ادا کیا۔ انھوں نے اس طرح کے ادارہ جاتی اشتراک کو فروغ دینے میں جامعہ انتظامیہ کے تعاون کا اعتراف کیا۔ مفاہمت ناموں پر دستخط کا عمل لائف سائنسز کے شعبے کے ساتھ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے روابط کو مستحکم کرنے اور ایک ایسے نظام کو پروان چڑھانے کی جانب ایک اور اہم قدم ہے جو تعلیم، تحقیق، جدت، مہارتوں اور روزگار کے مواقع کو باہم مربوط کرتا ہے۔
