Masarrat
Masarrat Urdu

مودی نے کیا سیمی کون انڈیا کا افتتاح، سیمی کنڈکٹر مشن کے دوسرے مرحلے کے لیے 13.5 ارب ڈالر کا اعلان

Thumb

نئی دہلی، 17 ستمبر (مسرت ڈاٹ کام) وزیراعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ ملک میں سیمی کنڈکٹر کا نظام تیزی سے پھیل رہا ہے اور دیسی چپ اب ملک اور دنیا کے صارفین تک پہنچنے لگی ہے۔

مسٹر مودی نے جمعرات کو یہاں سیمی کون انڈیا 2026 کے پانچویں ایڈیشن کا افتتاح کیا اور کہا کہ سیمی کنڈکٹر شعبے کے دن بہ دن بڑھنے سے ملک میں جدت طرازی، سرمایہ کاری اور ترقی کے نئے مواقع کھل رہے ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں اور صنعت سے اس سیمی کنڈکٹر مشن سے جڑنے کی اپیل کی۔ سیمی کنڈکٹر شعبے میں ہندوستان کی بڑھتی ہوئی صلاحیت کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے مشن کے دوسرے مرحلے کے لیے 13.5 ارب ڈالر کے منصوبے کا اعلان کیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ 2022 میں شروع ہوا سیمی کون انڈیا کا سفر اب پالیسی اور منصوبے سے آگے بڑھ کر پائلٹ لائن سے ہوتے ہوئے تجارتی پیداوار تک پہنچ گیا ہے۔ موہالی اور سورت میں دو نئے پلانٹوں میں تجارتی پیداوار شروع ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیمی کنڈکٹر کا پورا نظام تیار کرنے کے لیے چپ ڈیزائن، سامان کی تیاری اور جانچ کی صلاحیت ضروری ہے۔ انہوں نے فیبلیس کمپنیوں (بہت کم ملازمین والی کمپنیوں)،املاک دانش اور سلیکون فوٹونکس پر زور دیا۔ انہوں نے سامان، کیمیکل، گیس اور مواد کے شعبے کی کمپنیوں سے 12 منظور شدہ پروجیکٹوں اور بڑھتی ہوئی مانگ کا فائدہ اٹھانے کو کہا۔

وزیراعظم نے کہا کہ دنیا کو مینوفیکچرنگ کے لیے نئی اور قابل بھروسہ جگہ کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے اور ہندوستان اس کے لیے خود کو مسلسل تیار کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان ہر وہ قدم اٹھا رہا ہے جو ہمیں سیمی کنڈکٹر صنعت کے لیے ایک پسندیدہ جگہ بناتا ہے۔ کچھ سال پہلے ہی ملک کے آئین کے 75 سال پورے ہوئے ہیں۔ ایسا ملک جب ایک اہم صنعت میں آگے بڑھتا ہے تو اس سے پوری دنیا کی سپلائی چین کو طاقت ملتی ہے۔ انہوں نے کہا، "آج جب سپلائی چین کو ہتھیار بنایا جا رہا ہے تب تو اس کی اہمیت بہت بڑھ جاتی ہے۔ ہندوستان میں ہو رہی اس ترقی کو ہمیں اس وسیع نقطہ نظر سے بھی دیکھنا ہے۔"

وزیراعظم نے ہندوستان کی انجینئرنگ کی صلاحیتوں کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ چپ ڈیزائن کے لیے ایک لاکھ انجینئرنگ کے طلباء کو تربیت دینے کا ہدف رکھا گیا ہے، جن میں 70 ہزار کو تربیت دی جا چکی ہے۔ انہوں نے نوجوانوں اور محققین سے ملک میں جدید ٹیکنالوجی کو فروغ دینے میں حصہ لینے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا، "جو نوجوان صلاحیتیں ہندوستان میں تحقیق سے جڑی ہیں وہ آگے آئیں۔ جو نوجوان بیرون ملک تحقیق کر رہے ہیں وہ بھی ہندوستان میں جدید ٹیکنالوجی کے فروغ سے جڑیں۔"

انہوں نے اہم صنعت کاروں سے اپیل کرتے ہوئے کہا، "میں صنعت سے گزارش کرتا ہوں۔ آپ ملک میں تحقیق و ترقی کے لیے آگے آئیں۔ اس میں صنعتوں کا بھی فائدہ ہے اور ہندوستان کی یوا شکتی کو بھی اس سے طاقت ملے گی۔" مسٹر مودی نے کہا کہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی ) کی بڑھتی ہوئی مانگ سے سیمی کنڈکٹر شعبے کی ضروریات بدل رہی ہیں۔ اب صرف ٹرانزسٹر کے سائز پر توجہ نہیں ہے، بلکہ میموری کی جگہ اور حرارت کے انتظام سمیت پورے سسٹم کے انضمام پر بھی زور ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان ان نئی عالمی مینوفیکچرنگ ضروریات کے لیے مسلسل تیاری کر رہا ہے۔

انہوں نے اے آئی ڈیٹا سینٹر اور سیمی کنڈکٹر پلانٹوں کے لیے مسلسل بجلی کی ضرورت کا بھی ذکر کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہندوستان کی شمسی توانائی کی صلاحیت 160 گیگاواٹ سے زیادہ ہو گئی ہے۔ ساتھ ہی ایٹمی توانائی کے شعبے کو نجی شعبے کے لیے کھولنے اور چھوٹے ماڈیولر ری ایکٹر تیار کرنے کی سمت میں کام ہو رہا ہے۔ مسٹر مودی نے گزشتہ 15 دنوں میں حاصل ہونے والی کئی کامیابیوں کا بھی ذکر کیا جن میں 'گلوبل فن ٹیک فیسٹ' میں جامع مالیات پر بحث، 3,000 کلومیٹر طویل ڈیڈیکیٹڈ فریٹ کوریڈور کا آپریشن اور 7.8 فیصد کی سہ ماہی جی ڈی پی نمو شامل ہے۔ انہوں نے جاپان کی ایک کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی کی طرف سے ہندوستان کی سوورین ریٹنگ بڑھائے جانے کا بھی ذکر کیا۔

مسٹر مودی نے ہندوستان کی میزبانی میں حال ہی میں ہوئے برکس اجلاس اور نئی دہلی اعلامیہ کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ اعلامیہ کو متفقہ طور پر اپنایا جانا ہندوستان پر دنیا کے اعتماد کو دکھاتا ہے۔ وزیراعظم نے سیمی کون انڈیا کے انعقاد کو وشوکرما دن سے جوڑتے ہوئے ہندوستان کی تعمیر اور تخلیق کی پرانی روایت کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ روایتی تخلیقی صلاحیت کو 21ویں صدی کی ٹیکنالوجی اور سوچ سے جوڑنا آتم نربھر بھارت اور وکست بھارت سے ملی تحریک ہے۔

 

Ads