میرواعظ نے ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کی، بھارت پر امن اور سفارت کاری کے فروغ پر زور
سری نگر، 13 ستمبر (مسرت ڈاٹ کام) حریت کانفرنس کے سربراہ میر واعظ عمر فاروق نے کہا ہے کہ بڑھتی ہوئی بین الاقوامی کشیدگی کے درمیان بھارت کو مہاتما گاندھی کے فلسفۂ عدم تشدد کی اپنی روایت کو بروئے کار لاتے ہوئے تحمل، سفارت کاری اور پُرامن مذاکرات کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔
میر واعظ نے یہ بات نئی دہلی میں جاری برکس سربراہی اجلاس کے موقع پر ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کے دوران کہی۔ اس ملاقات میں ان کے ہمراہ آغا سید حسن اور عمران رضا انصاری بھی موجود تھے۔
وفد نے ایران کے عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے جنگ کے نتیجے میں بے گناہ افراد کی ہلاکت، گھروں اور بنیادی ڈھانچے کی تباہی اور خوف و عدم تحفظ کی بڑھتی ہوئی فضا پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔
وفد نے فلسطین میں جاری تباہی اور لبنان میں جانی نقصان اور عدم استحکام پر بھی تبادلہ خیال کیا اور کہا کہ تنازع کی بڑھتی ہوئی زنجیر نے پورے خطے میں انتہائی سنگین صورت حال پیدا کر دی ہے۔
میر واعظ نے کہا کہ ایسے نازک وقت میں دانش مندی، تحمل اور دوراندیش قیادت کی پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا، ’’جنگ صرف انسانی مصائب میں اضافہ کرتی ہے۔ اختلافات خواہ کتنے ہی سنگین کیوں نہ ہوں، مسلسل محاذ آرائی انہیں حل نہیں کر سکتی۔ بالآخر انتہائی پیچیدہ تنازعات کو بھی مذاکرات، رابطے اور گفت و شنید کی طرف لوٹنا پڑتا ہے۔‘‘
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جاری تنازعات کو مسلم دنیا میں فرقہ وارانہ تقسیم کو مزید گہرا کرنے کا ذریعہ نہیں بننا چاہیے۔ سیاسی رقابتوں اور مسلکی اختلافات کو امت مسلمہ کو مزید کمزور کرنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔
میر واعظ نے کہا، ’’ہمارے اختلافات کبھی بھی ایمان، اخوت اور مشترکہ انسانیت کے وسیع تر رشتوں پر غالب نہیں آنے چاہئیں۔ ایران، فلسطین، لبنان اور دیگر مقامات کے عوام کی تکالیف ہمیں ہمدردی اور ذمہ داری کے جذبے کے ساتھ ایک دوسرے کے مزید قریب لانی چاہئیں، نہ کہ مزید دور۔‘‘
میر واعظ نے کشمیر اور ایران کے درمیان تاریخی ثقافتی اور روحانی تعلقات کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے 1989 میں امام روح اللہ خمینی کے انتقال کے بعد سری نگر کی جامع مسجد میں منعقد ہونے والی تعزیتی تقریب کو یاد کیا۔
انہوں نے آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے اسلامی انقلاب کے ابتدائی برسوں میں کشمیر کے دورے کا بھی ذکر کیا، جب انہوں نے شہید ملت میر واعظ مولوی محمد فاروق کی موجودگی میں جامع مسجد میں نماز جمعہ کے اجتماع سے خطاب کیا تھا۔ اس موقع پر انہوں نے قرآن کے پیغامِ اخوت اور شیعہ سنی اتحاد پر زور دیا تھا۔
اس موقع پر میر واعظ نے عباس عراقچی کو اخروٹ کی لکڑی سے تیار کردہ ایک خصوصی یادگاری تحفہ پیش کیا، جس پر تاریخی جامع مسجد سری نگر کی شبیہ کندہ تھی۔ یہ تحفہ کشمیر اور ایران کے عوام کے درمیان دیرینہ ثقافتی اور روحانی تعلقات کی علامت قرار دیا گیا۔
خطے کی وسیع تر صورت حال کا حوالہ دیتے ہوئے میر واعظ نے کہا کہ جنوبی ایشیا کے اپنے تجربے نے طویل کشیدگی اور حل طلب تنازعات کی بھاری انسانی قیمت کو ظاہر کیا ہے اور اس سے مسلسل رابطے اور مذاکرات کی ضرورت مزید اجاگر ہوتی ہے۔؎
انہوں نے کہا کہ بھارت، مہاتما گاندھی کے فلسفۂ عدم تشدد کی اپنی وراثت کے باعث، بڑھتی ہوئی بین الاقوامی کشیدگی کے اس دور میں تحمل، سفارت کاری اور پُرامن روابط کے فروغ میں تعمیری کردار ادا کر سکتا ہے۔
میر واعظ نے کہا، ’’ہماری دنیا کو درپیش سنگین چیلنجز کا حل مسلسل پھیلتی ہوئی جنگوں کے ذریعے نہیں نکالا جا سکتا۔ محاذ آرائی صرف ان مسائل کو مزید سنگین بنائے گی۔ انسانی وقار کا کوئی فرقہ یا قومیت نہیں ہوتی اور ہر بے گناہ انسان کی جان قیمتی ہے۔ ہمیں تاریخ کے درست رخ پر قائم رہنا چاہیے—انصاف، انسانیت اور امن کے ساتھ۔‘‘
وفد نے امید ظاہر کی کہ موجودہ بحران مزید نہیں پھیلے گا اور محاذ آرائی کے بجائے سفارت کاری، مذاکرات اور مفاہمت کو کامیابی حاصل ہوگی۔