فلسطینی وزارت صحت نے ہفتہ کو بتایا کہ گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں غزہ پٹی میں 10 فلسطینی جاں بحق اور 56 زخمی ہوئے۔
وزارت نے کہا کہ متعدد متاثرین اب بھی ملبے تلے اور سڑکوں پر موجود ہیں، جبکہ ایمبولینس اور شہری دفاع کی ٹیمیں فی الحال ان تک پہنچنے سے قاصر ہیں۔
وزارت کے مطابق 11 اکتوبر کو جنگ بندی کے بعد سے اب تک ہلاکتوں کی تعداد 1,369 اور زخمیوں کی تعداد 4,627 ہوگئی ہے، جبکہ 831 لاشیں ملبے سے نکالی جاچکی ہیں۔
مجموعی اعداد و شمار کے مطابق 7 اکتوبر 2023 کو غزہ پٹی پر اسرائیلی حملوں کے آغاز سے اب تک ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 73,783 ہوگئی ہے، جبکہ زخمیوں کی تعداد 174,738 تک پہنچ گئی ہے۔
المائدین کے نامہ نگار کے مطابق جنوبی غزہ پٹی میں مواصی خان یونس کے علاقے کو اسرائیلی ڈرون سے نشانہ بنائے جانے کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوگئے۔
ایک اور واقعے میں جنوبی غزہ پٹی کے شہر خان یونس کے جنوبی حصے میں اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے زخمی ہونے والی ایک حاملہ خاتون اور اس کا نوزائیدہ بچہ جاں بحق ہوگیا۔
یہ واقعات غزہ میں جنگ بندی معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیوں کے درمیان پیش آئے ہیں۔ اسرائیلی قابض فوج غزہ پٹی کے مختلف علاقوں پر توپ خانے سے گولہ باری، جنگی طیاروں اور ڈرونز سے فضائی حملے، رہائشی علاقوں اور بنیادی ڈھانچے کی تباہی اور شہریوں کو ہلاک کرنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔
المائدین کے غزہ پٹی میں نامہ نگار نے 11 ستمبر کو بتایا کہ جنوبی غزہ میں خان یونس کے مغرب میں الصمود کیمپ کے داخلی راستے کے قریب اسرائیلی بمباری میں ایک فلسطینی جاں بحق اور 12 دیگر زخمی ہوگئے۔
نامہ نگار کے مطابق شمال مغربی غزہ کے بیت لٰہیا کے علوان علاقے پر اسرائیلی گولہ باری میں بھی متعدد فلسطینی زخمی ہوئے۔
دریں اثنا، غزہ شہر کے مشرق میں الدرج محلے میں 10 ستمبر کو شہریوں کے ایک گروپ پر اسرائیلی گولہ باری میں زخمی ہونے والا ایک اور فلسطینی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہوگیا۔
وزارت صحت نے 8 ستمبر کو بتایا کہ جنگ کے آغاز سے اب تک اعضا کاٹنے کے 5,000 کیسز ریکارڈ کیے جاچکے ہیں۔ اس کے علاوہ 300 افراد کو اعصابی اور ریڑھ کی ہڈی کی چوٹیں آئی ہیں، جبکہ 10,000 افراد کو طویل مدتی بحالیِ صحت کی ضرورت ہے۔
یہ اعداد و شمار 8 ستمبر کو عالمی یومِ فزیوتھراپی کے موقع پر جاری کیے گئے بیان میں پیش کیے گئے۔ وزارت نے کہا کہ فزیوتھراپی اور طبی بحالی زخمی فلسطینیوں میں معذوری کو مزید بڑھنے سے روکنے اور ان کی جانیں بچانے کے لیے ایک اہم ذریعہ بن چکی ہے۔
