پاکستان نے انگلینڈ کو جیت کے لیے 130 رنز کا ہدف دیا تھا۔ انگلینڈ کی دوسری اننگز کا آغاز انتہائی خراب رہا اور محمد عباس نے پہلے ہی اوور میں بین ڈکیٹ اور ایمیلیو گے کو بغیر کھاتہ کھولے پویلین بھیج دیا۔ اس وقت انگلینڈ کا اسکور محض دو رنز پر دو وکٹ تھا، لیکن جو روٹ اور جارڈن کاکس نے دباؤ کا سامنا کرتے ہوئے اننگز کو سنبھالا اور سنچری شراکت قائم کی۔
جو روٹ نے 69 گیندوں پر آٹھ چوکوں کی مدد سے ناٹ آؤٹ 62 رنز بنائے، جبکہ جارڈن کاکس نے 76 گیندوں پر آٹھ چوکوں کے ساتھ ناٹ آؤٹ 59 رنز کی اننگز کھیلی۔ انگلینڈ نے 24.2 اوورز میں دو وکٹوں پر 130 رنز بنا کر میچ اپنے نام کرلیا۔
محمد عباس نے ڈکیٹ کو دن کی پہلی ہی گیند پر آؤٹ کرکے پاکستان کو امید دلائی اور اسی اوور میں ایمیلیو گے کو بھی پویلین بھیج دیا۔ تاہم روٹ اور کاکس نے پاکستانی گیند بازوں کا ڈٹ کر سامنا کیا۔ روٹ کو آؤٹ کرنے کے پاکستان کو چند مواقع بھی ملے، لیکن فیلڈنگ ٹیم ان سے فائدہ نہیں اٹھا سکی۔ روٹ نے اپنی نصف سنچری مکمل کرنے کے بعد کاکس کے ساتھ 100 سے زائد رنز کی شراکت قائم کی، جبکہ کاکس نے بھی نصف سنچری مکمل کی اور دونوں نے انگلینڈ کو بغیر مزید نقصان کے ہدف تک پہنچا دیا۔
میچ میں شاندار کارکردگی پر انگلینڈ کے ڈین لارنس کو پلیئر آف دی میچ قرار دیا گیا، جبکہ انگلینڈ کے اولی رابنسن اور پاکستان کے محمد عباس کو مشترکہ طور پر سیریز کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔
مختصر اسکور: پاکستان پہلی اننگز 133 رنز، دوسری اننگز 449 رنز؛ انگلینڈ پہلی اننگز 453 رنز، دوسری اننگز دو وکٹوں پر 130 رنز۔
