ہندوستان کا کہنا ہے کہ برکس سربراہ اجلاس کا پیغام واضح ہونا چاہیے کہ اگر مستقبل مشترکہ ہے تو اس کی تعمیر کا حق بھی مشترکہ ہونا چاہیے۔ وزیراعظم نریندر مودی نے ہفتہ کے روز یہاں ہندوستان کی میزبانی میں 18ویں برکس سربراہ اجلاس کی پہلی مکمل میٹنگ کی صدارت کرتے ہوئے اپنے ابتدائی بیان میں کہا کہ عالمی تنظیموں میں فیصلے کا عمل پیرامڈ کی طرح ہے جہاں چوٹی پر بیٹھے چند ممالک ہی فیصلے میں شامل ہوتے ہیں۔ انہوں نے اس نظام کو ایسے پلیٹ فارم کی شکل دینے کی اپیل کی جہاں تمام ممالک فیصلے کے عمل میں شریک ہوں۔ انہوں نے کہا کہ برکس کے 20 سال مکمل ہو چکے ہیں اور اسے اب اپنی ذمہ داری کے مطابق آگے بڑھتے ہوئے عالمی حکمرانی کا ایجنڈا طے کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا، "برکس کو مضبوط کرتے ہوئے، ہمیں عالمی اصلاحات کی سمت بھی طے کرنی ہوگی۔ عالمی انتظامی نظام کا موجودہ ڈھانچہ ایک پیرامڈ جیسا دکھائی دیتا ہے۔ اس کے اوپری حصے میں بااختیار اور فیصلہ کرنے والے بیٹھے ہیں اور نچلے حصے میں وہ ممالک ہیں جو ان فیصلوں سے متاثر تو ہوتے ہیں، لیکن انہیں شکل نہیں دے پاتے۔" وزیراعظم نے کہا، "ترقی پذیر ممالک آج عالمی بحرانوں کا سب سے پہلے شکار ہوتے ہیں لیکن فیصلہ کرنے کے عمل میں وہ سب سے آخری قطار میں ہیں۔ ہمیں اس 'مراعات کے پیرامڈ' کو 'شمولیت کے پلیٹ فارم' میں بدلنا ہے، جہاں ہر ملک کی آواز ہو، ہر رکن کا مفاد ہو اور ہر کوشش کے مرکز میں انسانیت کی ترقی ہو۔"
انہوں نے کہا کہ اسے مدنظر رکھتے ہوئے ہمیں مل کر عالمی حکمرانی کی اصلاحات کی دس تجاویز تیار کرنہ ہوں گی جنہیں ہم اگلے اجلاس تک ایک برکس اصلاحاتی روڈ میپ کی شکل دینے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس روڈ میپ کو بنانے میں ہمیں تین اہم پہلوؤں یعنی نمائندگی، جوابدہی اور فیصلہ کرنے کے عمل میں مساوی شراکت کا خیال رکھنا ہوگا۔ نمائندگی کے معاملے پر وزیراعظم نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں اصلاحات کو اب اور نہ ٹالنے کی ضرورت بتائی۔ انہوں نے اس کے لیے تحریری تجاویز پر مبنی بات چیت کو متعین وقت اور واضح نتائج سے جوڑنے کا مشورہ دیا۔ انہوں نے مالیاتی اداروں میں ووٹنگ کے حقوق، قيادت کے عہد اور پالیسی ترجیحات کو موجودہ اقتصادی حقائق کے مطابق کرنے کی بھی بات کہی۔
جوابدہی کے تحت انہوں نے عالمی اداروں کی مسائل سے نمٹنے کی صلاحیت اور اجتماعي ردِعمل کی رفتار، پیمانے نیز آخری سطح تک اثر پر توجہ دینے کی ضرورت بتائی۔ انہوں نے جہاز رانوں کی سکیورٹی کے لیے ہنگامی امدادی نیٹ ورک بنانے کی تجویز پیش کی، جو متعلقہ ممالک کی سمندری اتھارٹیز اور مشنز کو جوڑ سکے۔ اس سے ہنگامی پیغامات، طبی امداد، خاندانوں کو اطلاع اور انخلاء میں تعاون دیا جا سکے گا۔ قواعد و ضوابط بنانے کے معاملے پر وزیراعظم نے کہا کہ اے آئی، سائبر اسپیس، بیرونی خلا، بائیو ٹیکنالوجی اور اہم ٹیکنالوجیز مستقبل کے مواقع کے ساتھ عالمی قوانین بھی طے کر رہی ہیں۔ انہوں نے گلوبل ساؤتھ کو قوانین پر صرف عمل کرنے والے ممالک سے قوانین بنانے میں کردار ادا کرنے والے ممالک میں بدلنے کی ضرورت بتائی۔
اس کے لیے برکس کے ذریعے گلوبل ساؤتھ کے نوجوان سفارت کاروں اور پالیسی سازوں کو بات چیت کی صلاحیت، عملی تربیت اور قانونی مہارت فراہم کرنے کی تجویز رکھی گئی۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہندوستان اس سمت میں قیادت کرنے کے لیے تیار ہے۔ نریندر مودی نے کہا کہ ہندوستان میں منعقدہ برکس سربراہ اجلاس کا پیغام واضح ہونا چاہیے کہ اگر مستقبل مشترکہ ہے تو اس کی تعمیر کا حق بھی مشترکہ ہونا چاہیے۔ انہوں نے برکس کے 20 سالہ عزم کو 'آواز سے اثر اور مراعات سے شراکت داری' کی سمت میں آگے بڑھانے کا اعادہ کیا۔
ہندوستان کی برکس صدارت کو عوام پر مرکوز اور 'انسانیت مقدم ' نقطۂ نظر پر مبنی بتاتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ مضبوط، اختراع ، تعاون اور پائیدارترقی کا قیام اس کی اہم ترجیحات رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی صدارت کے دوران 350 سے زائد میٹنگیں ہوئیں اور تقریباً 30 شہروں میں رکن ممالک کی ٹیموں کا استقبال کیا گیا۔ برکس کی 20ویں سالگرہ کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ تنظیم نے گزشتہ دو دہائیوں میں عالمی سطح پر اپنی الگ شناخت بنائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ برکس ایک دوسرے کے نقطۂ نظر کا احترام کرتے ہوئے اتفاقِ رائے سے آگے بڑھتا ہے اور کسی کے خلاف نہیں، بلکہ سب کو ساتھ لے کر چلنے کی سوچ رکھتا ہے۔ اب اتحاد اور اتفاقِ رائے کو عالمی سطح پر ٹھوس نتائج میں بدلنے کی ضرورت ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ ہر سال صدارت بدلنے سے برکس کی ادارہ جاتی رفتار نہیں رکنی چاہیے۔ اس کے لیے انہوں نے برکس تسلسل اور عمل درآمد کا طریقہ کار وضع کرنے کی تجویز پیش کی۔ اس کے تحت 'ٹروئیکا' کے ذریعے تمام پہل قدمیوں اور نتائج کی نگرانی کی جا سکے گی۔ ساتھ ہی ایک محفوظ ڈیجیٹل ریپازیٹری بنانے کا مشورہ دیا گیا، جس میں ہر فیصلے کے ساتھ متعلقہ نوڈل پوائنٹ، وقت اور اس کے عمل درآمد کی صورتحال درج ہو۔
