امید ہے کہ دھونی کی واپسی کے بعد سی ایس کے انتظامیہ اگلے کوچ کے نام کو حتمی شکل دینے کے ساتھ ٹرانسفر اور ٹریڈ سے متعلق معاملات پر بھی بات کرے گی۔ حکام کا کہنا ہے کہ ابھی کسی کوچ کا انتخاب نہیں کیا گیا، تاہم ذرائع کے مطابق ایک غیر ملکی امیدوار کو ترجیح دی گئی ہے، جو کسی دوسری فرنچائز سے بھی بات چیت کر رہا ہے۔ دھونی کی واپسی اور اعلیٰ حکام کے ساتھ ملاقات کے بعد صورت حال واضح ہونے کی توقع ہے۔
اس دوران دھونی کے سی ایس کے فرنچائز میں مزید حصص خریدنے کی خواہش سے متعلق خبریں بھی سامنے آئی ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق سابق ہندوستانی کپتان نے سی ایس کے میں حصص خریدنے میں دلچسپی ظاہر کی تھی، لیکن انتظامیہ ان کی شرائط سے اتفاق نہیں کرسکی۔ تاہم سی ایس کے کے ایک سینئر عہدیدار نے ایسی کسی بات چیت سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ دھونی نے اس سلسلے میں ان سے کبھی بات نہیں کی۔
دوسری جانب اطلاعات کے مطابق دھونی کے پاس پہلے سے ایک لاکھ سے زائد سی ایس کے کے حصص ہیں، جو انہوں نے اس وقت خریدے تھے جب یہ فروخت کے لیے دستیاب تھے۔ چونکہ کمپنی غیر فہرست شدہ ہے، اس کے حصص اسٹاک مارکیٹ میں براہ راست ٹریڈ نہیں ہوتے، تاہم آف مارکیٹ لین دین کے ذریعے انہیں خریدا جاسکتا ہے۔
دھونی کی موجودہ حصص داری مجموعی شیئر ہولڈنگ کے مقابلے میں بہت معمولی ہے۔ عوام کے پاس 30 کروڑ سے زائد حصص ہیں، جو فرنچائز کے کل شیئر کیپٹل کا تقریباً 40 فیصد بنتے ہیں، جبکہ شرینواسن خاندان کے پاس 55 فیصد سے زیادہ کنٹرولنگ حصص ہیں۔ موجودہ مارکیٹ ویلیو کے حساب سے دھونی کے حصص کی مالیت تقریباً 2.6 سے 3 کروڑ روپے ہوسکتی ہے، جو ان کے 21 سالہ کرکٹ کیریئر اور تجارتی آمدنی کے مقابلے میں بہت کم رقم ہے۔
