تہران، 10 ستمبر (مسرت ڈاٹ کام) تہران یونیورسٹی کے چانسلر محمد حسین امید نے کہا ہے کہ ایران اس وقت پابندیوں کے بدترین اور شدید ترین مرحلے میں ہے، تاہم عالمی علمی روابط پر عائد رکاوٹوں کا مقابلہ کرنے کے لیے متبادل راستوں کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، تہران یونیورسٹی کے چانسلر محمد حسین امید نے کہا ہے کہ ایران اس وقت شدید ترین پابندیوں کا سامنا کر رہا ہے، جن کے باعث ملک کے متعدد بین الاقوامی علمی روابط محدود ہو گئے ہیں، تاہم ان پابندیوں کا مقابلہ کیا جا رہا ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی محکمہ خزانہ کے دفتر برائے غیر ملکی اثاثہ جات کنٹرول نے ایک دستاویز میں اعلان کیا ہے کہ واشنگٹن نے ایران کے ساتھ کھیلوں کی سرگرمیوں اور یونیورسٹیوں کے تبادلات کو غیر معینہ مدت کے لیے روک دیا ہے۔
اسی سلسلے میں ای ٹی ایس ادارے نے بھی TOEFL iBT امتحان کے اندراج کے اپنے سرکاری صفحے پر اعلان کیا ہے کہ امریکی محکمہ خزانہ کے حالیہ ضوابط میں تبدیلیوں کے باعث ایران میں TOEFL اور GRE امتحانات کا انعقاد روک دیا گیا ہے۔ ادارے کے مطابق اس فیصلے سے متاثر ہونے والے امیدواروں کو امتحانی فیس واپس کر دی جائے گی۔
محمد حسین امید نے کہا کہ اسلامی انقلاب کی کامیابی کے پہلے دن سے ایران مختلف سطحوں اور شدت کے ساتھ پابندیوں کا سامنا کرتا آیا ہے، تاہم موجودہ صورتحال میں پابندیاں اپنی شدید ترین سطح پر پہنچ چکی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پابندیوں نے ایران کے بہت سے بین الاقوامی روابط کو محدود کر دیا ہے اور یہاں تک کہ ایرانی محققین کے مضامین بھی متعدد جرائد میں شائع نہیں کیے جا رہے۔ اسی طرح کئی بین الاقوامی معاہدوں کے حوالے سے بھی مشکلات پیدا ہوئی ہیں۔
تہران یونیورسٹی کے سربراہ نے کہا کہ ان حالات سے نمٹنے کے لیے منصوبہ بندی کی جا رہی ہے اور کوشش ہے کہ ایسے ممالک کے ساتھ علمی روابط بڑھائے جائیں جہاں اس حوالے سے زیادہ صلاحیت اور امکانات موجود ہیں تاکہ پابندیوں کے باوجود علمی سرگرمیاں جاری رکھی جا سکیں۔
اس سے قبل وزیر تعلیم کے معاون برائے تحقیق سید مہدی ابطحی نے بھی امریکہ کی نئی جامعاتی پابندیوں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ پابندی کسی ملک کے خلاف نہیں بلکہ علم کے خلاف پابندی ہے۔
انہوں نے امریکی حکومت کے اس اقدام کو انتہائی نامناسب قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان پابندیوں کے متبادل راستوں کے لیے ایک جامع پالیسی تیار کی جا رہی ہے، جس کا اعلان جلد کیا جائے گا۔
