Masarrat
Masarrat Urdu

اسرائیل نے شام کے ایئربیس پر حملے کا جواز پیش کر دیا، کہا: مقصد ترک فوجی موجودگی کو روکنا تھا

  • 19 Aug 2026
  • مسرت ڈیسک
  • دنیا
Thumb

یروشلم، 19 اگست (مسرت ڈاٹ کام) اسرائیل نے منگل کو شام کے ایک فوجی اڈے پر کیے گئے فضائی حملے کا جواز پیش کرتے ہوئے ٹرمپ انتظامیہ کو بتایا ہے کہ اس کارروائی کا مقصد علاقے میں ترکی کی فوجی موجودگی میں اضافے کو روکنا تھا۔ یہ بات امریکی اور اسرائیلی حکام نے بتائی۔

تاہم اچانک کیے گئے اس حملے نے وائٹ ہاؤس کے لیے صورت حال مزید پیچیدہ کر دی ہے، کیونکہ اس سے امریکہ کے تین اتحادیوں، اسرائیل، ترکیہ اور شام کے درمیان کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ دوسری جانب ٹرمپ انتظامیہ ایران کے ساتھ جنگ میں مصروف ہے اور ساتھ ہی خطے میں ان تینوں ممالک کے درمیان مزید کشیدگی کو روکنے کی کوشش کر رہی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ شامی صدر احمد الشرع کی حکومت کے ساتھ اپنے تعلقات کو خارجہ پالیسی کی ایک اہم کامیابی تصور کرتے ہیں اور ترک صدر رجب طیب اردوان کے ساتھ بھی قریبی تعلقات رکھتے ہیں۔ تاہم اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے ساتھ ان کے تعلقات اگرچہ اب بھی مضبوط ہیں، لیکن حالیہ مہینوں میں ان میں کچھ کشیدگی پیدا ہوئی ہے۔

اسرائیلی فوج (آئی ڈی ایف) نے منگل کی صبح شمالی شام میں ابو الظہور ایئربیس کو نشانہ بنایا۔ یہ فوجی اڈہ ترک سرحد سے تقریباً 45 میل دور واقع ہے۔ کم از کم آٹھ بموں نے ایئربیس کے رن ویز اور کئی ہینگرز کو نشانہ بنایا، جس سے حال ہی میں دوبارہ تعمیر کیے گئے رن ویز کو نقصان پہنچا، تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

اسرائیل نے ابتدا میں حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ اسرائیلی فوجی سنسر نے ان رپورٹس کو بھی روک دیا جن میں آئی ڈی ایف کی جانب سے حملہ کیے جانے کی تصدیق کی گئی تھی۔

بعد میں ترکیہ میں امریکی سفیر اور ٹرمپ انتظامیہ کے شام کے لیے خصوصی ایلچی ٹام بیرک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ حملہ اسرائیل نے کیا تھا۔

انہوں نے اس کارروائی کو ’’غیر ضروری کشیدگی‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے خطے میں استحکام کو فروغ نہیں ملا۔ شام اور ترکیہ نے مشترکہ طور پر بھی اس حملے کی مذمت کی۔

تقریباً 20 گھنٹے بعد اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر نے باضابطہ طور پر حملے کی ذمہ داری قبول کی اور کہا کہ شام، حلب کے قریب ایک ایئربیس پر ترک فوجیوں کی تعیناتی کی اجازت دے کر اسرائیل کے ساتھ طے شدہ سکیورٹی صورتِ حال برقرار رکھنے کے معاہدے کی خلاف ورزی کے قریب پہنچ گیا تھا۔

اسرائیل کے مطابق اس نے دمشق کو متعدد بار خبردار کیا تھا کہ ایسی تعیناتی اس کی سلامتی کے لیے خطرہ بنے گی، لیکن دمشق نے ان انتباہات کو نظر انداز کیا۔

معاملے سے واقف ایک گمنام ذریعے کے مطابق شامی حکومت نے اس سے قبل اسرائیل کو رن وے کی دوبارہ تعمیر کی وجوہات سے آگاہ کیا تھا اور واضح کیا تھا کہ اس کے کوئی جارحانہ عزائم نہیں ہیں۔ تاہم یہ وضاحتیں اسرائیل کے خدشات دور کرنے میں ناکام رہیں اور بالآخر حملہ کیا گیا۔

امریکی اور اسرائیلی حکام کے مطابق اسرائیل نے حملے سے قبل وائٹ ہاؤس کو اس بارے میں اطلاع دی تھی۔

اسرائیلی حکام نے امریکی عہدیداروں کو بتایا کہ حملے کا بنیادی مقصد انقرہ کو اس ایئربیس پر جدید ہتھیاروں کے نظام نصب کرنے سے روکنا اور وہاں ترکی کی وسیع تر فوجی موجودگی کو محدود کرنا تھا۔تاہم ایک ترک عہدیدار نے اسرائیل کے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایئربیس پر کوئی ترک فوجی موجود نہیں تھا۔ انہوں نے اسرائیل پر پڑوسی ممالک پر حملوں کے لیے بہانے تراشنے کا الزام بھی عائد کیا۔

یہ حملہ ٹرمپ اور اردوان کے درمیان ٹیلی فون پر ہونے والی گفتگو کے تقریباً تین گھنٹے بعد کیا گیا، تاہم یہ واضح نہیں کہ آیا دونوں رہنماؤں نے گفتگو کے دوران ایئربیس کے معاملے پر بات کی تھی۔

امریکی انتظامیہ کے بعض اعلیٰ عہدیداروں کا خیال ہے کہ اسرائیل میں ہونے والے انتخابات نے بھی اس فیصلے کو متاثر کیا ہو سکتا ہے۔

ان حکام کے مطابق شامی حکومت نے اسرائیل کے خلاف کوئی جارحانہ کارروائی نہیں کی تھی اور وہ کئی ماہ سے سرحد پر کشیدگی کم کرنے کے لیے ایک نئے سکیورٹی معاہدے کے حصول کی کوشش کر رہی تھی۔

ایک امریکی عہدیدار کے مطابق شام نے کئی ہفتوں تک امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ ایک ایسے معاہدے پر عمل درآمد کے لیے کوشش کی جس کے تحت اردن میں ایک مشترکہ رابطہ مرکز قائم کیا جانا تھا۔

اس مرکز کا مقصد فوجی سرگرمیوں کو منجمد کرنے سے متعلق مفاہمت کے تحت واقعات سے نمٹنا اور مزید کشیدگی کو روکنا تھا۔تاہم امریکی عہدیدار کے مطابق یروشلم نے رابطہ مرکز کو فعال بنانے سے انکار کر دیا اور اس کے بجائے جنوبی شام میں اسرائیلی فوج کی دراندازیوں میں اضافہ کر دیا۔

ایک اور امریکی عہدیدار نے کہا کہ شامی حکومت نے بالآخر یہ غور شروع کر دیا کہ آیا اسے اسرائیلی کارروائیوں کے خلاف اپنا دفاع کرنے کی ضرورت ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ نے دمشق پر تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا ہے، جبکہ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ واشنگٹن کو یقین ہے کہ اس مسئلے سے اسرائیل میں انتخابات کے بعد نمٹنا نسبتاً آسان ہو سکتا ہے۔

Ads