مسٹر کھرگے نے بدھ کے روز یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں پارٹی کی اعلیٰ ترین پالیسی ساز اکائی کانگریس ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ کی شروعات کرتے ہوئے اپنے خطاب میں کہا کہ نوجوانوں کو تعلیم اور روزگار نہیں مل رہا ہے، رام مندر کے چندے اور عطیات کا حساب عوام کو نہیں بتایا جا رہا نیز چین سے متصل سرحد کی صورتِ حال پر بھی حکومت کو واضح معلومات دینی چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس ورکنگ کمیٹی کو ان مسائل پر سنجیدگی سے غور کرنے کے ساتھ ساتھ ملک کے سامنے متبادل، پالیسی اور حل بھی رکھنا ہوگا۔
کانگریس صدر نے کہا کہ ملک میں تعلیم مہنگی ہوتی جا رہی ہے اور حالیہ برسوں میں 94 ہزار اسکول بند ہو گئے ہیں۔ اعلیٰ تعلیم عام خاندانوں کی پہنچ سے باہر ہوتی جا رہی ہے نیز پڑھائی مکمل کرنے کے بعد بھی نوجوانوں کو پیپر لیک، بھرتی کے امتحانات میں بے ضابطگیوں اور تقرریوں میں تاخیر کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور اس کا سب سے زیادہ اثر غریب اور کمزور طبقے کے نوجوانوں پر پڑ رہا ہے۔
سابق وزیرِ اعظم راجیو گاندھی کو یاد کرتے ہوئے مسٹر کھرگے نے کہا کہ انہوں نے نوجوانوں کو اپنی پالیسیوں کے مرکز میں رکھا۔ انہوں نے ووٹنگ کی عمر 21 سال سے گھٹا کر 18 سال کرنے، ہر ضلع میں نودیہ اسکولوں کا نیٹ ورک قائم کرنے نیز تعلیم میں روزگار اور ہنر مندی کے فروغ کو جوڑنے جیسے اقدامات کا ذکر کیا اور کہا کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور مواصلاتی انقلاب نیز حقِ تعلیم سے لے کر تعلیمی اداروں کی تعمیر اور ترقی تک کانگریس کی حکومتوں کی اہم کامیابیاں رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ملک کے نوجوانوں میں آج مودی حکومت کے خلاف جو غصہ ہے، وہ اچانک پیدا نہیں ہوا ہے۔ حکومت نے ان کے مسائل کو سننے کے بجائے عارضی تدابیر سے انہیں ٹالنے کی کوشش کی، جس کی وجہ سے انہیں سڑکوں پر اترنا پڑا۔ کانگریس نے نوجوانوں کے مسائل کو اپنے ایجنڈے میں شامل کیا ہے اور راہل گاندھی نے 'چھاتروں کی گونج' پروگرام کے ذریعے ان کی آواز قومی سطح پر اٹھائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کو نوجوانوں کے لیے واضح، جامع اور وقت کی پابند 'تعلیم سے روزگار' اسکیم تیار کرنی چاہیے۔
رام مندر کے مسئلے پر مسٹر کھرگے نے کہا کہ وزیرِ اعظم نے پارلیمنٹ میں ٹرسٹ کی تشکیل کا اعلان کیا تھا اور عام لوگوں نے بھروسہ کر کے مندر کے لیے چندہ، سونا چاندی اور دیگر اشیاء دیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ ٹرسٹ کو کتنا چڑھاوا ملا اور اس کا حساب کتاب کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صرف کچھ لوگوں کو جیل بھیجنے سے معاملہ ختم نہیں ہوگا اور وزیرِ اعظم کو اس مسئلے پر جواب دینا چاہیے۔
کانگریس صدر نے چین کے ذریعہ ہندستانی سرحد میں مبینہ مداخلت سے جڑی رپورٹوں پر بھی حکومت سے صورتِ حال واضح کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ قومی سکیورٹی پر سیاست نہیں ہونی چاہیے، لیکن قومی سکیورٹی کو نظر انداز بھی نہیں کیا جا سکتا۔ فوج کے جوانوں کے حوصلے کو سلام پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک کے شہریوں کو اپنی سرحدوں کی واقعی صورتِ حال جاننے کا حق ہے اور حکومت کو اس بارے میں شفافیت برتنی چاہیے۔
مسٹر کھرگے نے کہا کہ کانگریس کی جدوجہد صرف سیاسی اقتدار کے لیے نہیں، بلکہ جمہوریت کے تحفظ، آئین کو مضبوط کرنے اور ملک کی آنے والی نسلوں کے لیے بہتر مستقبل بنانے کی جدوجہد ہے۔
